رسائی کے لنکس

غیر ملکی فوجیں ملک سے نکل جائیں، عراقی پارلیمنٹ


عراقی پارلیمنٹ کا ایک منظر، فائل فوٹو

عراق کی پارلیمنٹ نے ایک قراردار منظور کی ہے جس میں غیر ملکی فوجوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کے ملک سے نکل جائیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ کے گزشتہ ہفتے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی حملے میں ایران کی فوج کے چوٹی کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ملک میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

عراقی حکومت نے انتہا پسند گروپ داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی مدد کی درخواست منسوخ کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں فوجی آپریشن ختم ہو چکے ہیں اور فتح حاصل ہو چکی ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے بتایا ہے کہ قرارداد پانچ جنوری کو منظور کی گئی۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عبدل مہدی کی حکومت عراق کی سرزمین سے غیرملکی افواج کی موجودگی کے خاتمے اور ان کی زمین، فضا یا پانی کسی کے بھی خلاف کسی وجہ سے بھی استعمال نہ ہونے دینے کے اقدامات کریں۔

حکومت پارلیمنٹ کی قراردادوں پرعمل درآمد کی پابند نہیں ہے۔ لیکن اس سے قبل وزیراعظم عبدل مہدی نے پارلیمنٹ پر زور دیا فوری طور پر اقدامات کرے تاکہ غیر ملکی فوجی دستوں کو ملک سے نکالا جا سکے۔

انہوں نے اراکین پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اندرونی اور بیرونی مشکلات کے ممکنہ سامنے کے باوجود یہ اقدام اصولوں اورعمل کی بنیاد پر عراق کے بہترین حق میں ہے۔

اسی اثنا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کی 52 تنصیبات کا تعین کر لیا ہے۔ اگر تہران نے ان کے بقول سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کسی امریکی ہدف کو نشانہ بنایا تو امریکہ بہت سرعت سے اور بہت شدت سے اس کا جواب دے گا۔

ادھر ایران نے، جو القدس فورس کے سربراہ کی ہلاکت کا سرکاری طور پر سوگ منا رہا ہے، امریکہ کی دھمکیوں کے جواب میں الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ایران نے ٹرمپ کی جانب سے ثقافتی مقامات کو بھی ہدف میں شامل کرنے پر تنقید کی ہے۔

امریکہ کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے صدر ٹرمپ کے بیان کا اے بی سی ٹیلی وژن پر ایک انٹرویو میں یہ کہتے ہوئے دفاع کیا ہے کہ ان کو اس بارے میں کوئی شبہہ نہیں ہے ایران کی قیادت ٹرمپ کے خیالات کو سمجھتی ہے اور اس کو واضح پیغام مل گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG