رسائی کے لنکس

logo-print

عراقی پارلیمان تعطل کا شکار، اجلاس اگلے ماہ تک مؤخر


المالکی نے گذشتہ ماہ مغربی رہنماؤں کو بتایا تھا کہ نئی حکومت جولائی میں تشکیل پاجائے گی۔ لیکن، پیر کے روز پارلیمان نے اپنا اگلا اجلاس 12 اگست تک مؤخر کر دیا، اس انتظار میں کہ ملک کے تین اعلیٰ ترین عہدے کیسے پُر کیے جائیں گے

عراق کےتعطل کے شکار پارلیمان نےاپنا اگلا اجلاس اگست کے وسط تک مؤخر کر دیا ہے، جو ابھی تک سیاسی طاقت میں شراکت کے معاملے کا فیصلہ نہیں کر پایا، ایسے میں جب عراق کو شدت پسند اسلامی بغاوت درپیش ہے جو دارلحکومت کے قریب تک پیش قدمی کر چکے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے گذشتہ ماہ مغربی رہنماؤں کو بتایا تھا کہ نئی حکومت جولائی میں تشکیل پاجائے گی۔ لیکن، پیر کے روز پارلیمان نے اپنا اگلا اجلاس 12 اگست تک مؤخر کر دیا، اس انتظار میں کہ ملک کے تین اعلیٰ ترین عہدے کیسے پُر کیے جائیں گے۔

اپریل میں ہونے والے انتخابات میں، مسٹر الماکی کے شیعہ سیاسی بلاک نے زیادہ تر نشستیں جیتیں، لیکن اکثریت حاصل نہیں کرپائے۔

متعدد عراقی قانون سازوں نے ملک کی اکثریتی سنی آبادی کو مناسب سیاسی اہمیت دینے میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔

وہ اِن مطالبات سے جھجکتے ہیں کی کہیں یہ بات اُنھیں تیسری بار وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کھڑے ہونے میں حائل نہ ہو۔

دولت اسلامی فی العراق ولشام اور لیواں (داعش) نے شمالی اور مغربی عراق کا زیادہ تر علاقہ قبضے میں کر لیا ہے، حالانکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بغداد فوری طور پر باغیوں کے ہاتھ نہیں لگ سکتا۔


ایسے میں جب لڑائی جاری ہے، دارلحکومت کے مغرب میں ایک اعلیٰ عراقی فوجی کمانڈر ہلاک ہوگیا ہے، مسٹر المالکی کے دفتر نے اُن کی شناخت میجر جنرل نیغم عبداللہ علی بتائی ہے، جو عراق کی چھٹی ڈویژن کے کمانڈر تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ابراہیم بن علی میں اُنھیں گولی لگی تھی۔ یہ وہ علاقہ ہے جو بغداد اور باغیوں کے کنٹرول والے مغربی شہر، فلوجہ کے تقریبا ً بیچ میں واقع ہے۔

عراقی سکیورٹی افواج کے لیے جون کا مہینہ غیر معمولی طور پر مہلک ثابت ہوا، جب داعش کا زور بڑھتا رہا اور اس نے مغربی شام کے اپنے مضبوط ٹھکانوں سے عراق کے اندر پیش قدمی کا آغاز کیا۔ اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران 886 عراقی فوجی اہل کار ہلاک ہوئے، جو تعداد مجموعی طور پر پانچ ماہ سے زائد عرصے کی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔


اقوام متحدہ کی طرف سےگذشتہ ہفتے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 2014ء کے پہلے نصف کے دوران عراق میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں 7160 شہری اور فوجی ہلاکتیں واقع ہوئیں، جب کہ گذشتہ سال میں تقریباً 9000ہلاکتیں واقع ہوئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG