رسائی کے لنکس

logo-print

عراق:ایرانی قونصل خانہ نذر آتش، پُرتشدد مظاہروں میں 28 افراد ہلاک


مقامی میڈیا کے مطابق، انتظامیہ نے واقعے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

عراق میں پرتشدد مظاہروں کے دوران مشتعل افراد نے جنوبی شہر نجف میں ایرانی قونصل خانے کو آگ لگا دی جب کہ سیکیورٹی فورسز نے پرتشدد ہجوم کو منشتر کرے کے لیے گولی چلا دی۔ جس سے مجموعی طور پر 28 افراد ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، بدھ کو مظاہرین مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کرتے رہے، جس دوران اُن کی سیکیورٹی اہل کاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہرین نے نجف میں ایرانی قونصل خانے پہنچ کر اسے آگ لگائی جس کے بعد انتظامیہ نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا۔

کشیدہ حالات کے بعد پولیس اور فوج نے جمعرات کو شورش زدہ شہروں میں سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالیں، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے ناصریہ شہر میں فائرنگ کر کے24 افراد کو ہلاک کر دیا۔

ناصریہ میں حکومت کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر۔ 28 نومبر 2019
ناصریہ میں حکومت کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر۔ 28 نومبر 2019

پولیس اور سول ڈیفنس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ایرانی قونصل خانے کے قریب پہنچنے سے قبل عملہ باہر نکل چکا تھا؛ جب کہ مقامی میڈیا کے مطابق، انتظامیہ نے واقعے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ عراق میں ایران کی مبینہ مداخلت اور حکومت کی نااہلی کے خلاف یکم اکتوبر کو دارالحکومت بغداد سے شروع ہونے والے مظاہرے جنوبی شہروں تک پہنچ چکے ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے ایرانی قونصل خانے کو نذر آتش کیے جانے کا اب تک کا سب سے شدید رد عمل ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سیاست دان بدعنوان اور ایران سمیت غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار ہیں، جب کہ 2017 میں جنگجو تنظیم داعش کو شکست دینے کے باوجود حکومت ملک میں استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مکمل طور پر ناکام ہے۔

دوسری جانب عراقی کے فوجی حکام نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے مظاہروں کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ’کرائسز سیلز‘ بنائے ہیں جن میں فوجی اور سول حکام شامل ہوں گے۔

فوجی حکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ سیلز صوبائی گورنر کی سربراہی میں کام کریں گے اور فوجی حکام ارکان کی حیثیت سے ان کرائسز سیلز میں شامل رہیں گے۔

بیان کے مطابق، فوجی حکام سیکیورٹی صورتِ حال کو بھی قابو میں رکھیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG