رسائی کے لنکس

logo-print

مظاہرین دھرنا ختم کر کے معمولات زندگی بحال کریں، مقتدٰی الصدر


عراق کے معروف مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کی اپیل کے باوجود بغداد میں حکومت ٘مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ 2 فروری 2020

عراق کے ایک معروف مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر نے اتوار کے روز اپنے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ دھرنا ختم کر دیں اور گزشتہ کئی مہینوں سے مظاہروں کے باعث بند سڑکوں کو کھولنے اور صاف کرنے میں سیکیورٹی فورسز کی مدد کریں تاکہ ایک نئے وزیر اعظم کی تعیناتی کے بعد روزمرہ کے معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔

الصدر جنہوں نے حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کی تھی، اپنے غیر مسلح حامیوں سے کہا ہے کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لیے حکام کے ساتھ مل کر کام کریں کہ تعلیمی ادارے اور کاروبار دوبارہ بحال ہو سکیں۔

الصدر نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ میں سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ہر اس شخص کو روکیں جو سڑکوں پر رکاوٹیں ڈالے اور وزارت تعلیم کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کو سزائیں دیں جو طالب علموں اور اساتذہ کے کام میں خلل ڈالیں۔

بظاہر ایسا دکھائی دے رہا کہ ان کے کچھ پیروکار بغداد کے تحریر چوک میں دھرنے کے مقام کو صاف کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔ وہاں واقع ٹرکش ریسٹورانٹ کی ایک اونچی عمارت، جس پر مظاہرین گزشتہ اکتوبر سے قابض تھے، اب خالی پڑی ہے اور الصدر کے پیروکار واکی ٹاکی کے ساتھ اس کے باہر پہرہ دے رہے ہیں۔

قریبی علاقوں میں حکومت مخالف مظاہرے بدستور جاری ہیں اور مظاہرین کی برہمی کا رخ اب نئے وزیر اعظم محمد توفیق علاوی کی طرف ہو گیا ہے جن کا نام ہفتے کے روز مقتدہ الصدر اور ایرانی حمایت یافتہ حریف سیاسی گروپ کے درمیان معاہدے کے ایک حصے کے طور پر ہفتے کے روز سامنے آیا تھا۔

مظاہرین حکمران شخصیات کو برطرف کرنے اور روزگار کے بہتر مواقع اور سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وہ اکتوبر میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے باقاعدگی کے ساتھ بغداد اور جنوبی عراق میں سٹرکوں کو بند کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG