رسائی کے لنکس

logo-print

بغداد: سیکیورٹی فورسز نے تحریر چوک خالی کرا لیا


کریک ڈاؤن کے وقت حکومت مخالف احتجاج میں شامل ایک شخص۔

سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کی صبح بغداد کے تحریر چوک پر حکومت مخالف احتجاجی خیموں کو آگ لگا دی، جس کے بعد علاقے سے مظاہرین کا قبضہ ختم کرا لیا گیا۔ یہ علاقہ کئی ماہ سے احتجاج کا مرکز بنا ہوا تھا۔

اس سخت کارروائی سے چند ہی گھنٹے قبل ایک طاقت ور شیعہ عالم دین نے احتجاجی تحریک کے لیے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ان کے حامیوں نے اپنا سامان باندھنا شروع کر دیا اور احتجاجی کیمپوں سے کوچ کر گئے۔

ادھر بغداد میں خلانی چوک پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران اس وقت ایک شخص ہلاک جب کہ 44 زخمی ہو گئے، جب سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور گولیاں چلائیں۔

طبی اور سیکیورٹی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ اہل کاروں نے یہ بات نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی، کیونکہ ضابطوں کے مطابق انھیں بیان دینے کی اجازت نہیں ہے۔

چوک کے پاس مظاہرین ان آٹو رکشا اور ٹیکسیوں کے قریب کھڑے تھے جنھیں سیکیورٹی فورسز نے نذر آتش کر دیا تھا۔ یہ تحریک اب تک حکومت مخالف احتجاج کی نمایاں علامت سمجھی جا رہی تھی۔

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے پیروکاروں اور ان کے ملیشیا گروپ کی موجودگی احتجاج کرنے والوں کے لیے ڈھال کا کام دے رہا تھا، جب ک کچھ نامعلوم گروہ انھیں دبانے اور نقصان پہنچانے کے درپے تھے۔

ملیشیا کی ڈھال ہٹ جانے کے بعد چار ماہ سے جاری تحریک میں موجود زیادہ تر مظاہرین کو بدترین نتائج بھگتنے کا ڈر لاحق ہو گیا تھا۔

الصدر کی جانب سے حمایت اٹھائے جانے کے اعلان سے چند ہی گھنٹے قبل، شیعہ عالم دین کے لاکھوں حامیوں نے بغداد کے قریبی مضافات میں علیحدہ سے امریکہ مخالف ریلی نکالی، جب کہ حکومت مخالف مظاہرین اس میں شریک نہیں تھے۔

اس عمل سے عراقی حکام کو ایک واضح پیغام دیا گیا، جن سے اگلے وزیر اعظم کی نامزدگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اس مطالبے پر کافی عرصے سے لے دے جاری رہی ہے اور عراق کی سڑکوں پر الصدر کے حامیوں کا راج رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG