رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: داعش کے ’پھانسی گھاٹ‘ پر حملہ، 70 یرغمالی بازیاب


تاہم، مغربی کرکوک کے قریب اِس جراٴت مندانہ کارروائی کے دوران ایک امریکی کمانڈو، ماسٹر سارجنگ جوشوا ویلر ہلاک ہوئے۔ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف ایک برس سے جاری کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے وہ پہلے امریکی فوجی ہیں

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ عراق میں دولت اسلامیہ کے ایک احاطے کے اندر یرغمالیوں کو ٹکٹکی پر چڑھائے جانے کا خدشہ لاحق تھا، جس پر جمعرات کو امریکی اور کرد فوج نے مشترکہ کارروائی کرکے یرغمالیوں کو چھڑایا۔

جمعے کو ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، کارٹر نے کہا کہ یوغمالیوں کے لیے داعش کے ٹھکانے پر قبریں کھود دی گئی تھیں، جسے وزیر دفاع نے ’پھانسی گھاٹ‘ بتایا۔
کرکوک کے مغرب میں واقع ہجویہ کے داعش کے محفوظ ٹھکانے پر بہادری سے چھاپہ مارا گیا، جس میں عراقی سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے تقریباً 70 یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا۔

تاہم، بچاؤ کے اس مشن کے دوران گولیوں کے تبادلے میں ایک امریکی کمانڈو ماسٹر سارجنٹ جوشوا ویلر ہلاک ہوئے۔ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف ایک برس سے جاری کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے وہ پہلے امریکی فوجی ہیں۔

اتحاد کے ترجمان، کرنل اسٹیو وارن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بچاؤ کے مشن کے دوران، ویلر کو گولی لگی۔ یہ واقع اُس وقت ہوا جب امریکہ اور عراقی کُرد لڑاکا فورس نے مغربی کرکوک میں ہواجیہ کے داعش کے احاطے پر مشترکہ کارروائی کے دوران چھاپہ مارا۔

وارن نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’لڑائی نےجب شدت اختیار کی، امریکیوں نے مدد کی ٹھان لی‘۔ بقول ترجمان، ’سرزمین پر موجود کمانڈر نے مدد کرنے کا اعلان کیا، تاکہ دشمنوں کا صفایا کیا جاسکے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اِس کارروائی کے دوران، کُرد افواج کے اہل کار بھی ہلاک ہوئے، جس چھاپے میں تقریباً 70 یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا، جن میں عراقی سکیورٹی فورسز کے کم از کم 22 ارکان بھی شامل تھے، جنھیں باغیوں کے ہاتھوں مارے جانے کا خدشہ لاحق تھا۔

وارن نے بتایا کہ اس سے ایک ہی روز قبل، چار یرغمالیوں کو پھانسی دی گئی تھی۔
وارن کے بقول، ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا چھاپہ ہے جو اس حد تک ڈرامائی انداز کا تھا‘، کیونکہ یہ دشمن کی صفوں کے اندر واقع تھا، جہاں یرغمالیوں کو بند رکھا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG