رسائی کے لنکس

عراق امریکی لڑاکا مشن کے خاتمے کے اعلان کے لیے پرامید


عراق میں تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

عراق کے ایک اعلی سطحی وفد کے اراکان نے توقع ظاہر کی ہے کہ عراق میں امریکہ کا لڑاکا مشن ختم کرنے کے لیے عراق اور بائیڈن انتظامیہ کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔

عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے جمعرات کے روز وائس آف امریکہ کی کرد سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں معاہدے کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی نوعیت پر روشنی ڈالی، بالخصوص داعش کےخلاف جنگ میں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ طے پانے کے بعد یہ اعلان کیا جائے گا کہ امریکی لڑاکا فورسز عراق میں نہیں رہیں گی۔ لیکن ان کے قیام نہ کرنے کی نوعیت کیا ہو گی اور ان کا انخلا کب ہو گا، اس کا تعلق دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے نظام الاوقات، تکنیکی معاملات اور سیکیورٹی سے منسلک دوسرے مسائل پر ہو گا۔

یہ مذاکرات پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن اور عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی ملاقات سے چند روز قبل ہو رہے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم اس ملاقات میں سیاسی، معاشی، سیکیورٹی اور ثقافتی مسائل سمیت کئی امور پر بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر بائیڈن سے ملاقات کر رہے ہیں۔
عراقی وزیر اعظم پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر بائیڈن سے ملاقات کر رہے ہیں۔

عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کی جمعے کے روز اپنے امریکی ہم منصب اینٹنی بلنکن سے ملاقات ہونا طے تھی۔ عراقی عہدے داروں نے توقع ظاہر کی تھی کہ بات چیت میں توانائی، بجلی، گیس، ثقافت، صحت، سیکیورٹی اور مالی امور پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں خود کش بم حملے میں کم ازکم 34 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ عراقی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں سے نمٹے کے لیے عراقی فورسز کو امریکی تربیت اور ہتھیاروں کی ضرورت ہو گی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے وائس آف امریکہ کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ توقع یہ ہے کہ صدر بائیڈن اور عراقی وزیر اعظم الکاظمی کی ملاقات میں توجہ زیادہ تر امریکی امداد کے جاری رکھے جانے پر مرکوز رہے گی۔

ساکی کا کہنا تھا ," ان کی حکومت ہم سے امداد جاری رکھنے کی درخواست کر رہی ہے اور وہ ہم سے سیکیورٹی، لاجسٹک اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں تعاون کے خواہش مند ہیں۔"

سن 2011 میں عراق اور شام کے علاقوں میں دہشت گرد گروپ داعش کے ابھرنے کے بعد امریکی فورسز 2014 میں دوبارہ عراق میں آ گئی تھیں۔

داعش کے خلاف جنگ کے دوران عراقی کرد خواتین کو ہتھیار چلانے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
داعش کے خلاف جنگ کے دوران عراقی کرد خواتین کو ہتھیار چلانے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

اپریل میں امریکہ اور عراق کے درمیان امریکی فورسز کے مشن میں تبدیلی پر سمجھوتہ ہوا، جس میں تربیت اور مشاورتی کردار پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے امریکی لڑاکا فورسز کی واپسی کی اجازت دی گئی۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ بغداد یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کا بندوبست خود کر سکتا ہے، ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروپس ڈرون اور راکٹ حملوں سے امریکی اور عراقی فورسز کو ہدف بنا رہے ہیں۔

عراقی حکومت کو ایران سے منسلک سیاسی گروپس کی جانب سے امریکی فوجی دستوں کی واپسی کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کا کہنا تھا کہ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ دوسرے ملکوں کی کشیدگی کو عراقی سرزمین سے دور رکھا جائے۔ ہم اس معاملے میں صرف امریکہ سے ہی نہیں بلکہ ایران سے بھی بات کر رہے ہیں۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مڈل ایسٹ پروگرام کی ایک سینئر فیلو نتاشا حال کا کہنا ہے کہ بغداد کو اپنے استحکام کے لیے امریکہ کی فوجی مدد کی ضرورت ہے۔

تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی عراق میں موجود ہیں اور ان کے کردار میں تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی تعداد میں کمی ناگزیر ہوگی۔

امریکہ کے عراق میں لڑاکا فوجی مشن کے اختتام کے باضاطہ اعلان کو اکتوبر میں عراقی پارلیمنٹ کے انتخابات سے قبل الکاظمی کی ایک سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG