رسائی کے لنکس

موصل میں بینک اور عدالت کی عمارت فوج کے کنٹرول میں


عراقی سکیورٹی فورسز مغربی موصل میں پیش قدمی کرتے ہوئے۔

ان سرکاری عمارتوں پر قبضے سے عراقی فورسز کو قریب ہی واقع قدیمی شہر کے مرکز میں موجود شدت پسندوں پر حملوں میں مدد مل سکے گی۔

عراق کی سکیورٹی فورسز نے موصل میں مرکزی بینک کی ایک شاخ اور شدت پسند تنظیم داعش کے بطور عدالت زیر استعمال عمارت کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔

فوج کے ایک ترجمان کے مطابق یہ دونوں عمارتیں اسی علاقے میں واقع ہیں جہاں دیگر سرکاری عمارتوں کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے گزشتہ رات فورسز نے دھاوا بولا تھا۔

ترجمان لیفٹیننٹ کرنل عبدالامیر المحمدوای نے منگل کو بتایا کہ اس کارروائی میں سرکاری عمارتوں اور قرب و جوار کے سرکاری دفاتر کا کنٹرول حاصل کرنے کے علاوہ "درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک" بھی کر دیا گیا۔

شدت پسندوں کی یہ عدالت انتہائی سخت سزائیں دیا کرتی تھی جس میں لوگوں کو سنگسار کرنے، اونچی عمارتوں سے نیچے پھینکنے اور ہاتھ کاٹ دینے کی سزائین شامل تھیں۔

2014ء میں موصل پر داعش کے قبضے کے وقت بینک کی شاخ لوٹ مار کا شکار ہوئی تھی۔

ان سرکاری عمارتوں پر قبضے سے عراقی فورسز کو قریب ہی واقع قدیمی شہر کے مرکز میں موجود شدت پسندوں پر حملوں میں مدد مل سکے گی۔

شہر کا یہ حصہ دریائے دجلہ کے مغربی کنارے پر واقع ہے اور ایک اندازے کے مطابق مغربی موصل پر فورسز کی چڑھائی کے وقت یہاں ساڑھے سات لاکھ لوگ آباد تھے۔

عراقی فوج کا کہنا ہے کہ دریائے دجلہ کے مغربی جانب ایک اور پل پر بھی فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔

عراقی فورسز کو امریکہ کی زیر قیادت اتحادی افواج کی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG