رسائی کے لنکس

محمد عرفان نے پیر کو اینٹی کرپشن یونٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ بیان میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کئی ماہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے، اس لئے ’پی سی بی‘ کو آگاہ نہیں کر سکے

پاکستان کرکٹ ٹیم میں فاسٹ بولر کی حیثیت سے کھیلنے والے محمد عرفان نے سپر لیگ کے دوران ’بکیز‘ سے رابطوں کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔

دوسری جانب چیئرمین ’پی سی بی‘ شہریار خان کا کہنا ہے کہ جو بھی کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوا اس کا کیریئر ختم ہو جائےگا۔

پیر کو پریس کانفرنس کے دوران شہریار خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیرئیرختم کئے جانے سے متعلق وہ پہلے ہی کھلاڑیوں کو بتا چکے ہیں۔

محمد عرفان نے پیر کو اینٹی کرپشن یونٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ بیان میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کئی ماہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے اس لئے ’پی سی بی‘ کو آگاہ نہیں کرسکے۔

مقامی صحافیوں کو اپنے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، محمد عرفان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ وہ والد کی بیماری کی وجہ سے دورہ آسٹریلیا ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس بیان کے بعد محمد عرفان کے خلاف چارج شیٹ جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

میچ فکسنگ کے حوالے سے دو اور کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ اب تک نہیں ہوسکا ہے۔

چیئرمین ’پی سی بی’ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو پھنسانے کے لیے نت نئے طریقے استعمال ہو رہے ہیں۔ بکیز کھلاڑیوں سے دوست، رشتہ داروں کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG