رسائی کے لنکس

logo-print

کیا پاکستان صدارتی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے؟


فائل فوٹو

وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل، غیر منتخب افراد کی کابینہ میں شمولیت اور تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے پارلیمانی نظام کے خلاف بیانات کے بعد بعض حلقوں کو پاکستان میں صدارتی نظام کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔

حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ تحریکِ انصاف پارلیمانی قوت کو پالیسی سازی میں بروئے کار نہ لا کرصدارتی طرزِ حکمرانی کا تاثر دے رہی ہے۔

پاکستان میں صدارتی اور پارلیمانی نظامِ حکومت کے فوائد اور نقصانات پر بحث زور و شور سے جاری ہے۔ اس بحث کا آغاز پاکستان تحریکِ انصاف کے حامیوں نے کیا ہے جو صدارتی نظام کو ملک کے لیے بہتر قرار دے رہے ہیں۔

لیکن حزبِ اختلاف کی تمام بڑی جماعتیں صدارتی نظام کی مخالف ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ پی ٹی آئی پارلیمانی نظامِ حکومت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز رہے۔

صدارتی اور پارلیمانی نظام میں فرق کیا ہے؟

دنیا کے مختلف ممالک میں کہیں صدارتی تو کہیں پارلیمانی طرزِ حکومت رائج ہے۔ پارلیمانی نظام میں اختیارات کا مرکز عوام کے ووٹوں سے براہِ راست منتخب ہونے والی پارلیمان ہوتی ہے جس کے فیصلوں پر وزیرِ اعظم اور اس کی کابینہ عمل کرتی ہے۔

ایوانِ صدر اسلام آباد (فائل فوٹو)
ایوانِ صدر اسلام آباد (فائل فوٹو)

اس کے برعکس صدارتی نظام میں تمام اختیارات کا منبع صدر ہوتا ہے اور عوام کے منتخب پارلیمانی نمائندے بھی صدر کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔

سینئر صحافی سہیل شہریار کہتے ہیں کہ صدارتی نظام کی کامیاب مثال امریکہ ہے جہاں لگ بھگ سوا دو سو سال سے یہ نظام رائج ہے۔ جب کہ پارلیمانی نظامِ حکومت کا آغاز صدیوں پہلے برطانیہ سے ہوا تھا اور پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے جو ممالک سلطنتِ برطانیہ کی کالونی رہے ان میں سے بیشتر میں آج بھی پارلیمانی نظام ہی رائج ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سہیل شہریار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مخصوص حالات کے لیے پارلیمانی طرزِ حکومت ہی بہتر ہے جس پر تمام سیاسی قوتیں متفق ہیں اور ہمیں اسی کی مضبوطی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

کیا فیصلہ سازی کا مرکز کہیں اور ہے؟

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت وفاقی کابینہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کا تعلق ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی یا سابق فوجی صدر پرویز مشرف سے تھا اور ان دونوں کی پالیسیوں اور طرزِ حکومت پر عمران خان شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار عمار مسعود سمجھتے ہیں کہ کابینہ میں تبدیلیاں حکمران جماعت کو اعتماد میں لیے بغیر عجلت میں کی گئیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فیصلہ کہیں اور ہوا جس پر عمل وزیرِ اعظم نے کیا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

عمار مسعود کے نزدیک یہ بحث ہی غلط ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام آرہا ہے۔ ان کے بقول صدارتی نظام آ چکا ہے اور ملک میں عملی طور پر ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہوگئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم صدرِ پاکستان کو وزیرِ اعظم پاکستان کہتے ہیں۔

'ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا'

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں صدارتی نظام سے متعلق بحث کو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مختلف رہنما اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ موجود حکومت اٹھارہویں ترمیم ختم کر کے ملک کو صدارتی نظام کی جانب لے جانا چاہتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی علی پرویز ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے جس میں صوبوں کی صورت میں چار اکائیاں ہیں اور اس نظام میں صدارتی طرزِ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

علی پرویز ملک کے بقول ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ نظام کو مضبوط کیا جائے۔ لیکن وہ بھی سمجھتے ہیں کہ حکومت نئی کابینہ میں دو درجن سے زائد غیر منتخب افراد کو شامل کر کے صدارتی نظام کی طرف منتقلی کا تاثر دے رہی ہے۔

'حکومت نظام کی تبدیلی نہیں چاہتی'

نظامِ حکومت اور صوبوں کو با اختیار بنانے سے متعلق اٹھارہویں آئینی ترمیم میں رد و بدل کی افواہوں پر سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے حال ہی میں وضاحت بھی کی تھی کہ حکومت موجودہ آئینی ڈھانچے میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

لیکن بعض ناقدین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد وزیرِ اعظم کو پارلیمان اور قوم کو اعتماد میں لے کر صورتِ حال واضح کرنی چاہیے تاکہ نظامِ حکومت سے متعلق قیاس آرائیوں اور غیر یقینی کا خاتمہ ہوسکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG