رسائی کے لنکس

پاناما فیصلہ: اسحٰق ڈار نے نظرِ ثانی کی درخواست دائر کردی


اسحٰق ڈار کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست میں پاناما لیکس سے متعلق فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

پاناما لیکس سے متعلق عدالتِ عظمٰی کے 28 جولائی کے فیصلے کے خلاف پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے بھی سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان سمیت چھ افراد کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کو احتساب عدالت میں ریفرنس بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

جن دیگر پانچ شخصیات کے خلاف نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا اُن میں سابق وزیراعظم کے تینوں بچوں - حسین، حسن اور مریم نواز کے علاوہ نواز شریف کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد صفدر کے علاوہ اسحق ڈار بھی شامل ہیں۔

پیر کو اسحٰق ڈار کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست میں پاناما لیکس سے متعلق فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام حقائق کا جائزہ نہیں لیا۔

اسحٰق ڈار پر آمدن کے معلوم ذرائع سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہے اور اسی بنا پر عدالت عظمٰی نے ان کے خلاف نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے نوازشریف نے بھی اپنی نااہلی کے فیصلے کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں نظر ثانی کی درخواستیں دائر کردی تھیں۔

عدالت عظمٰی کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے ’نیب‘ نے گزشتہ جمعے کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے دونوں بیٹوں حسین اور حسن نواز کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

نواز شریف سمیت چھ افراد کے خلاف احتساب عدالت میں چلائے جانے والے ان مقدمات کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ نے جسٹس اعجاز الاحسن کو بطور نگران جج مقرر کیا ہے۔

دریں اثنا نیشنل بینک کے صدر سعید احمد پیر کو لاہور میں نیب حکام کے سامنے پیش ہوئے۔

قومی احتساب بیورو نے شریف خاندان کی لندن میں جائیداد سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے نیشنل بینک کے صدر کو طلب کیا تھا۔

نیب نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو بھی طلب کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG