رسائی کے لنکس

نواز شریف سمیت 14 لیگی رہنماؤں کو توہینِ عدالت کا نوٹس


فائل

درخواست گزار کی جانب سے اس کيس ميں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پيمرا) کو بھي فريق بنایا گیا ہے۔

لاہور ہائي کورٹ نے سابق وزیرِاعظم نواز شريف سميت مسلم ليگ (ن) کے 14 رہنماؤں کو عدلیہ مخالف مبینہ تقریروں پر توہینِ عدالت کے نوٹس جاري کردیے ہيں۔

عدالتِ عالیہ میں سابق وزیراعظم کے خلاف توہينِ عدالت کي درخواست سول سوسائٹی کی رکن آمنہ ملک نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاناما کیس پر سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد نکالی جانے والی ریلی میں نواز شریف نے عدلیہ اور اس کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جس سے عدلیہ کی تضحیک اور توہین ہوئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کے بیانات بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں۔

اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ دو مرتبہ وزیراعلٰی پنجاب اور تین مرتبہ وزیراعظم پاکستان رہ چکے ہیں لہذا انہیں اداروں کا احترام معلوم ہونا چاہیے اور انہیں اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔

درخواست گزار کی اپیل پر لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مامون الرشید نے سابق وزیراعظم سمیت 14 ارکانِ پارلیمان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں جبکہ عدالت کی کارروائی 25 اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

عدالت نے حکمران جماعت کے جن رہنماؤں سے جواب طلب کیا ہے ان میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، سعد رفيق، مشاہد اللہ خان، پرويزرشيد، مريم اورنگزيب، آصف کرماني، رانا ثنا اللہ، عابد شيرعلي، طارق فضل چوہدري، مائزہ حميد اوردانيال عزيز شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے عدالتی کارروائی پر کوئی بات نہیں کی۔ البتہ انہوں نے کہا کہ ان کے قائد میاں نواز شریف اور ان کی جماعت نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے اور عدالتی فیصلوں کو تسلیم کیا ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے اس کيس ميں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پيمرا) کو بھي فريق بنایا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG