رسائی کے لنکس

logo-print

آب پارہ روڈ بدستور بند، آئی ایس آئی چیف عدالت حاضری سے مستثنیٰ


فائل فوٹو

عدالت نے سیکریٹری دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی بدھ کی سماعت پر حاضری سے استثنا دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارتِ دفاع کو خفیہ ادارے 'آئی ایس آئی' کے دفتر کے ساتھ واقع آب پارہ روڈ کھولنے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی بدھ کی سماعت پر حاضری سے استثنا دے دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے منگل کو شہر کی مختلف سڑکوں کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کرنے سے متعلق کیس میں وزارتِ دفاع کی متفرق درخواست کی سماعت کی۔

عدالتی استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چار ہفتے بعد عدالت کو بتادیں گے آبپارہ کب خالی کی جائے گی۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چار ہفتے بعد صرف یہ بتانا ہے تو پھر آپ کی درخواست مسترد کردیتے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ جسے آپ تحفظ دیتے ہیں اسے کہیں، وہ ایک دن میں آپ کو دیوار بنادے گا۔

عدالت نے وزارتِ دفاع کو آب پارہ روڈ کھولنے اور متبادل سکیورٹی انتظامات کرنے کے لیے چار ہفتوں کا وقت دیتے ہوئے حکم دیا کہ حساس ادارہ اپنی حدود کے اندر سکیورٹی انتظامات کرے۔

آب پارہ کے قریب خیابانِ سہروردی روڈ پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' کا صدر دفتر واقع ہے۔ اس روڈ کو آب پارہ روڈ بھی کہا جاتا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اس شاہراہ کے دو کلومیٹر طویل حصے کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بند کردیا گیا تھا اور اس حصے سے ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ دارالحکومت کی سڑکوں کی بندش سے متعلق مرکزی کیس کی سماعت بدھ کو کرے گی۔

گزشتہ سماعت پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عدالت کے حکم کے باوجود آب پارہ روڈ نہ کھولنے پر سیکریٹری دفاع اور 'آئی ایس آئی' کے ڈائریکٹر جنرل کو ذاتی حیثیت میں بدھ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

لیکن منگل کو وزارتِ دفاع کی استدعا پر جسٹس صدیقی نے سیکریٹری دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی کو کل کی سماعت پر حاضری سے استثنا دے دیا۔

اسلام آباد میں ماضی میں دہشت گردی کے خدشے کے پیشِ نظر بہت سے اہم مقامات اور سڑکیں سیمنٹ کے بلاک رکھ کر مستقل یا جزوی طور پر بند کردیے گئے تھے۔ لیکن دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آنے کے باوجود بہت سی اہم شاہراہیں آج تک بند ہیں۔

اس بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری کیس کے دوران عدالت کی ہدایت پر کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے سامنے واقع شاہراہ سمیت کئی اہم سڑکیں اور مقامات کھلوائے ہیں لیکن اب بھی شہر کی بہت سی اہم سڑکیں بند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG