رسائی کے لنکس

عراق کے شمالی قصبے پر داعش کا قبضہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے اپنا سیاہ پرچم علاقے میں عمارتوں پر لہرا دیا ہے جو کہ ان کی طرف سے پہلے بھی علاقوں پر قبضے اور وہاں مخالفین کو بڑی تعداد میں موت کے گھاٹ اتارنے کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔

عراق میں عینی شاہدین کے مطابق دولت اسلامیہ فی عراق و لشام (داعش) کے عسکریت پسندوں نے شمال میں زمر نامی علاقے اور اس سے ملحقہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ کر لیا ہے جسے کرد جنگجوؤں کی پہلی بڑی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔

القاعدہ سے علیحدہ ہونے والے دھڑے داعش کے شدت پسندوں نے رواں سال جون میں عراق کے شمال میں ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اسے سرکاری فورسز کی طرف سے کسی بھی طرح کی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ہزاروں عراقی فوجیوں کی داعش کے جنگجوؤں کے سامنے پسپائی کے بعد شیعہ ملیشیا اور کرد جنگجوؤں نے مل کر شدت پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

کرد فورسز نے زمر سمیت دیگر لڑائی والے علاقوں میں تازہ کمک بھیجی تھی لیکن یہاں تین اطراف سے بھاری اسلحے کے ساتھ حملہ آور ہونے والے شدت پسندوں سے ان کا مقابلہ ہوا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے اپنا سیاہ پرچم علاقے میں عمارتوں پر لہرا دیا ہے جو کہ ان کی طرف سے پہلے بھی علاقوں پر قبضے اور وہاں مخالفین کو بڑی تعداد میں موت کے گھاٹ اتارنے کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔

داعش نے بغداد کی طرف پیش قدمی کی دھمکی دے رکھی ہے لیکن تاحال یہ ملک کے شمال اور مغرب میں ہی مختلف علاقوں میں اپنی کارروائیاں کرتی چلی آئی ہے۔

اس تنظیم نے اپنا نام تبدیل کر کے دولت اسلامیہ رکھ لیا تھا اور یہ عراق اور شام میں خلافت کا اعلان بھی کر چکی ہے۔ شدت پسند پہلے ہی تیل کی چار تنصیبات پر قابض ہو چکے ہیں جو ان کی کارروائیوں میں مالی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG