رسائی کے لنکس

اسلام آباد: ہاتھی 'کاون' کو محفوظ مقام پر منتقل نہ کرنے پر عدالت برہم


اسلام آباد کے چڑیا گھر میں موجود ہاتھی کاون (فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چڑیا گھر سے جانوروں کی منتقلی کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جانوروں کی محفوظ پناہ گاہوں میں منتقلی کی مہلت میں توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے وائلد لائف قوانین وزیر اعظم کے نوٹس میں لانے کا بھی حکم دے دیا۔

ہفتے کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے چڑیا گھر سے جانوروں کی عدم منتقلی کے کیس پر سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بدقسمتی سے سب سیاست کھیل رہے ہیں، یہاں آپ انسانوں کا خیال نہیں رکھ پا رہے جانوروں کا کیا رکھیں گے۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے ابھی تک جانوروں کو کیوں منتقل نہیں کیا گیا؟ سب کو بیان حلفی دینے کا کہا تھا لیکن کسی نے جمع نہیں کرایا۔

خیال رہے کہ اسلام ہائی کورٹ نے رواں سال مئی میں اسلام آباد کے 'مرغزار' چڑیا گھر سے 'کاون' نامی ہاتھی سمیت دیگر جانوروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ ان جانوروں کو نہایت اذیت ناک حالات میں رکھا گیا ہے۔

عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ ہاتھی کاون سمیت تمام جانور بہت سختیاں جھیل چکے ہیں۔

چیف کمشنر اسلام آباد عدالتی احکامات سے لاعلم نکلے اور یقین دلایا کہ چڑیا گھر میں جانوروں کی بہتری کے لیے جو ہو سکا کریں گے۔ چیف کمشنر نے جانوروں کو متبادل جگہ پر لے جانے کے لیے محکمہ وائلڈ لائف کو زمین دینے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اسلام آباد میں جگہ نہیں دے سکتے اور یہ جانور اسلام آباد میں رکھے ہی نہیں جا سکتے۔ ہم کیوں جانوروں سے متعلق اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟

وزیراعظم بھی کاون سے متعلق بات کر چکے ہیں کہ کیسے اس پر ظلم ہوا، وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ لوگوں کو پتا ہی نہیں نیشنل پارک کیا ہوتا ہے۔ وزیراعظم کو آپ لوگ بتاتے کیوں نہیں کہ وائلڈ لائف سے متعلق قوانین موجود ہیں، جانوروں کے حقوق سے متعلق قوانین موجود ہیں ان پر عمل ہی نہیں ہو رہا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی احکامات کو بھی آپ سب نظر انداز کر رہے ہیں۔ چڑیا گھر سے متعلق فیصلے کو کسی نے چیلنج بھی نہیں کیا پھر عمل کیوں نہ ہوا؟

کاوون 1985 سے اسلام آباد کے چڑیا گھر میں ہے۔
کاوون 1985 سے اسلام آباد کے چڑیا گھر میں ہے۔

سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے آگاہ کیا کہ وزارتِ قانون نے رائے دی ہے کہ رکنِ پارلیمنٹ کسی بورڈ کا ممبر نہیں ہو سکتا جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ بہت بڑا بیان دے رہی ہیں۔ کیا کوئی رکنِ پارلیمنٹ کسی بورڈ کا ممبر نہیں؟ جس پر سیکرٹری نے کہا کہ باقی ارکان کا میں نہیں جانتی لیکن ہمیں یہی رائے دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سادہ سی بات بتائیں کیوں ابھی تک کاون کو آزاد نہیں کیا جا سکا؟ کاون جس تکلیف سے گزر رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟

چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ سری لنکن ہائی کمیشن سے رابطہ کر کے کچھ کریں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک آپشن دیا گیا تھا کہ ہو سکے تو ایسا بھی کر لیں۔

عدالت نے تمام فریقین کو پیر کو میٹنگ کر کے معاملے کا حل نکالنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جانوروں کی منتقلی اور وائلڈ لائف قوانین پر عمل درآمد کا لائحہ عمل بھی تیار کریں۔ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے دوبارہ ہوگی۔

عدالت نے مئی میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مرغزار چڑیا گھر کے واحد ہاتھی کاون کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا جس کے نتیجے میں وہ گزشتہ تین دہائیوں سے ناقابل تصور تکالیف سے گزر رہا ہے۔

اسلام آباد چڑیا گھر کے ہاتھی کاون کا مسئلہ

اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں موجود کاون کو 1985 میں سری لنکا نے پاکستان کو تحفے میں دیا تھا اس وقت اس کی عمر چھ سال تھی اور 30 سے زائد برس تک اسے نامساعد حالات میں رکھنے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

کاون کی حالت اس وقت خراب ہو چکی ہے اور وہ چلنے سے بھی قاصر ہے، ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق اب کاون سفر کے بھی قابل نہیں ہے۔

کاون کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ اس مہم میں امریکی گلوکارہ شیر بھی پیش پیش رہی ہیں اور انہوں نے مئی میں ٹوئٹر پر کاون کا معاملہ اُجاگر کیا تھا جس کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا تھا۔

کاون کے بارے میں عدالتی حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے رواں سال 22 مئی کو محکمہ جنگلی حیات کو حکم دیا تھا کہ کاون کو 30 روز میں مناسب جگہ پر منتقل کرنے کے لیے سری لنکا کے ہائی کمشنر سے مشورہ کیا جائے۔

عدالت نے کہا تھا کہ وائلڈ لائف بورڈ متعلقہ ماہرین اور بین الاقوامی اداروں یا تنظیموں کی مدد بھی حاصل کرسکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بورڈ، عدالت کے فیصلے کی تقل موصول ہونے کے بعد 60 روز میں دیگر جانوروں کو ان کے متعلقہ مقامات میں منتقل کرے گا۔

کاون کی حالت کا کیسے پتا چلا

سال 2015 میں امریکی نژاد پاکستانی خاتون ثمر خان نے سب سے پہلے کاون کا معاملہ اٹھایا تھا اور مرغزار چڑیا گھر میں کاون کی حالت دیکھنے کے بعد آن لائن پٹیشن کے ذریعے اس کی حالت کا معاملہ اٹھایا۔

اس کے بعد آن لائن پٹیشن پر چار لاکھ کے قریب افراد نے دستخط کیے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں باقاعدہ رٹ بھی دائر کی گئی۔

کاون کے لیے ساتھی کے طور پر مادہ ہتھنی بھی موجود تھی لیکن اس کی موت کے بعد کاون کی حالت مزید خراب ہوئی۔ اس وقت کاون مرغزار چڑیا گھر میں موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG