رسائی کے لنکس

logo-print

شیروں کے حملوں میں ہلاک مردوں کی بیوائیں نحوست کی علامت


فائل فوٹو

بنگلہ دیش میں شیروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے مردوں کی بیواؤں کو نحوست کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

راشدہ کے شوہر کی موت شیر (بنگال ٹائیگر) کے حملے میں ہوئی تھی۔ شوہر کی موت کے بعد ان کے جوان بیٹوں نے ان سے تعلق ختم کر لیا جب کہ پڑوسی بھی ان سے دور رہتے ہیں۔ علاقے میں ان کو اب 'ڈائن' بھی کہا جاتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق راشدہ جیسی بیواؤں کو بنگلہ دیش کے اکثر دیہاتی علاقوں میں گاؤں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ دیہاتی علاقوں میں ایسی بیواؤں کو ہی اپنے شوہر کی موت کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔

راشدہ کے مطابق میرے بیٹوں نے مجھے کہا کہ میں ایک بد نصیب ڈائن ہوں۔

وہ سندربن میں گبورا نامی گاؤں میں رہتی ہیں جہاں زیادہ تر لوگ جنگلوں میں شہد کے چھتوں سے شہد جمع کرنے کا کام کرتے ہیں۔ یہ علاقہ بھارت کی سرحد کے قریب ہے جب کہ یہاں برے پیمانے پر مینگروز کے جنگلات ہیں۔

راشدہ کے شوہر پر بھی شیر نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ شہد جمع کر رہے تھے۔

بنگال کے شیروں پر تحقیق کرنے والے ماہر جہانگیر نگر یونیورسٹی کے منیر الخان کہتے ہیں کہ شہد جمع کرنے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سندربن کے جنوب مغربی علاقے میں شہد جمع کریں جب کہ اس علاقے میں آدم خور شیر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ بنگال کے شیروں کی نسل تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، ترقیاتی کام اور شیروں کے لیے موافق حالات نہ ہونا قرار دیا جاتا ہے۔ خوارک کے قدرتی ذرائع تیزی سے کم ہونے کی وجہ سے شیر اکثر اوقات دیہاتوں میں بھی خوراک کی تلاش میں آ جاتے ہیں جب کہ بعض اوقات انسانوں پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

جنگلی حیات کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں سندربن کے علاقے میں ایک اندازے کے مطابق 100 کے قریب شیر موجود ہیں۔

شیروں کے حملوں میں مارے جانے والے مردوں کی بیواؤں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے 'لیڈرز بنگلہ دیش' کی رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2011 کے درمیان ایک دہائی میں اس ضلع کے 50 دیہات میں 519 افراد شیروں کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔

'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ان بیواؤں کو اپنے شوہر کی موت کے بعد جب سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت انہیں ان کے گھر سے محروم اور گاؤں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ شاید چند ایک خواتین ہی ایسی ہوں جن کی کوئی مدد کر رہا ہوتا ہے۔

راشدہ کو اپنے بیٹوں کے ترک تعلق پر شدید افسوس ہے تاہم انہیں معلوم تھا کہ ایسا ہونا ہے۔ ان کے بیٹوں کی عمر 24 اور 27 سال ہے۔ 45 سالہ بیوہ کا اپنے بیٹوں کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہ بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔

وہ چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتی ہیں۔ جس کی چھت نہیں ہے۔ ان کی جھونپڑی کی چھت حالیہ دنوں ایک طوفان میں اڑ گئی تھی۔ تاہم ان کے پڑوسیوں یا سرکاری طور پر کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ ان راشدہ کا دعویٰ ہے کہ گاؤں میں دیگر لوگوں کو تو مددگار مل جاتے ہیں تاہم کوئی ان کی مدد کے لیے موجود نہیں ہے۔

انہوں نے اپنی جھونپڑی کو بچانے کے لیے اس پر ایک پرانا بڑا سا پلاسٹک ڈالا ہوا ہے تاکہ جھونپری میں موجود سامان کو کسی طرح محفوظ کیا جا سکے۔

راشدہ کی جھونپڑی کے قریب ہی رہنے والے محمد حسین بھی اپنی متاثر ہونے والی چھت ٹھیک کر رہے تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی بیوی نے انہیں راشدہ سے کسی بھی قسم کی بات کرنے سے منع کیا ہے۔

جنگلوں سے شہد جمع کرنے کا کام کرنے والے 31 سالہ محمد حسین راشدہ سے بات نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کی حفاظت اور بہتری چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ بدنصیبی ان کے گھر میں بھی داخل ہو۔

سرکاری حکام نے تردید کرتے ہیں کہ طوفان کے بعد وہ راشدہ کی مدد کرنا بھول گئے ہیں۔

'لیڈرز بنگلہ دیش' نامی غیر سرکاری ادارے کے سربراہ موہن کمار منڈل کے مطابق شیروں کے حملوں میں جن عورتوں کے شوہر مر جاتے ہیں ان بیواؤں کے ساتھ شدید قدامت پسند برادریوں میں بدسلوکی عام ہے۔ یہ روایت صدیوں سے چلتی چلی آ رہی ہے۔

ان کے مطابق مختلف ادارے اس روایت کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاہم تبدیلی کی رفتار انتہائی سست ہے۔

رجہ خاتون کے شوہر بھی 15 سال قبل شیر کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ انہیں بھی گاؤں سے بےدخل کر دیا گیا تھا۔ البتہ ان کے بھتیجے اور ان کے خاندان نے خفیہ طور پر ان کی مدد جاری رکھی۔

اپنے شوہر کی موت کے فوری بعد کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ اس وقت میے بیٹے بہت چھوٹے تھے لیکن کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ اس وقت مجھے انتہائی برا لگ رہا تھا جب گاؤں کے لوگ مجھے میرے شوہر کی موت کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے کیوں کہ اس سب میں میرا کیا قصور تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں اسی طرح جینا سیکھ گئی ہوں۔

ان کا بھتیجا یاد علی کے مطابق وہ کئی لوگوں کو شیروں کے حملے کے بعد موت کے منہ میں جاتے دیکھ چکے ہیں جن میں ان کے چچا بھی شامل تھے۔

یاد علی کہتے ہیں کہ وہ ان کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ لیکن سب کے سامنے وہ مدد نہیں کر سکتے تھے اس لیے وہ خفیہ طور پر ان کی مدد کرتے رہے۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں شہد جمع کرنے کا کام وہ لوگ کرتے ہیں جو کہ کشتی یا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے مچھلیاں پکڑنے کا کام نہیں کر سکتے۔ شیروں کے حملوں میں موت کا خوف اور پھر بعد میں ان کی بیوہ کے عمر بھر کی مشکلات کی وجہ سے اب مرد شہد جمع کرنے کے مقابلے میں دیگر کام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ہارون الرشید کے والد شیر کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی وجہ سے ہارون نے اپنا آبائی کام شہد جمع کرنا جاری نہیں رکھا بلکہ وہ ماہی گیر بن گئے۔

ہارون الرشید کی عمر 21 سال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی ماں نہیں چاہتی تھی کہ ان کا اختتام بھی اپنے والد کی طرح ہو۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ میں بھی زندہ رہنا چاہتا ہوں کیوں کہ میری ماں نے عمر بھر شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اب میں ان کا خیال رکھنا چاہتا ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG