رسائی کے لنکس

logo-print

آئی ایس آئی کے دفتر کے سامنے کی سڑک سے رکاوٹیں ہٹانے کا کام شروع


پاکستان کی اہم ترین خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم اپنے ہیڈ کوارٹر کے سامنے والی سڑک سے رکاوٹیں ختم کرنا شروع کردی ہیں اور سڑک کو یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔

6 جولائی 2018 کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی ایس آئی کو خیابانِ سہروردی سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

آبپارہ کے قریب خیابانِ سہروردی روڈ پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' کا صدر دفتر واقع ہے۔ اس روڈ کو آبپارہ روڈ بھی کہا جاتا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سال 2007 میں اس شاہراہ کے دو کلومیٹر طویل حصے کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بند کردیا گیا تھا اور اس حصے سےٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں ماضی میں دہشت گردی کے خدشے کے پیشِ نظر بہت سے اہم مقامات اور سڑکیں سیمنٹ کے بلاک رکھ کر مستقل یا جزوی طور پر بند کردیے گئے تھے۔ لیکن دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آنے کے باوجود بہت سی اہم شاہراہیں آج تک بند ہیں۔

آئی ایس آئی ہیڈکواٹرز کے سامنے رورویہ سڑک کو فی الوقت یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھولا جا رہا ہے۔ زمین کا جائزہ لینے کیلئے وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے حکام نے مٹی کا نمونہ لیبارٹری ٹیسٹ کے لئےبھیج دیا گیا۔ ٹیسٹ کے بعد دوسری جانب کی سڑک گرین بیلٹ پر بنا کر کھول دی جائے گی۔جبکہ ہیڈکوارٹر سے ملحقہ پرانی سڑک بدستور بند رہے گی،

14 مارچ کو سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد میں 2 بڑے ہوٹلز کے اطراف میں موجود تجاوزات پر نوٹس لیا گیا تھا اور سی ڈی اے کو تجاوزات ہٹا کر شاہراوں کو کھولنے کا حکم دیا تھا۔

اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

4 جولائی 2018 کو سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کی جانب سے سڑک پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا آئی ایس آئی کو 4 ہفتوں میں سڑک کھولنے سے متعلق دیا گیا فیصلہ معطل کرتے ہوئے آئی ایس آئی سے سڑک کھولنے کی تاریخ طلب کی تھی اور پھر 6 جولائی کو سڑک کھونے کیلئے 8 ہفتوں کی مہلت دی تھی۔

اس کیس کی سماعت کے دوران آئی ایس آئی اور وزارت دفاع کے حکام کو بھی عدالت میں طلب کیا گیا تھا، ایک موقع پر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر چیف جسٹس نےکہا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو عدالت میں بلا لیتے ہیں۔ تاہم، بعد میں انہوں نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG