رسائی کے لنکس

مظاہرین کے حملوں سے کئی صحافی زخمی


ایک ٹی وی چینل کی گاڑی کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ 25 دسمبر 2017

علی رانا

راول پنڈی اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے کے دوران میڈیا کے اوپر کئی حملے کیے گئے اور کئی کارکن صحافی زخمی ہوگئے۔ حملوں کے دوران سماٗ ٹی وی کی ڈی ایس این جی وین کو نذرآتش کردیا گیا جبکہ اسی چینل کی ایک اور کار کو بھی پتھراؤ سے شدید نقصان پہنچایا گیا۔

زخمی ہونے والے صحافیوں میں دنیا نیوز کے قمرالمنور شامل تھے جنہیں ربڑ بلٹ لگا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ میٹرو واچ اخبار کے پرویز آسی شدید پتھراؤ کی زد میں آئے اور سر پر شدید ضربات آئیں۔ بزنس پلس کے سید ہاشمی بھی سر پر ضربات کے باعث اسپتال میں داخل ہیں۔

ایک زخمی صحافی
ایک زخمی صحافی

مظاہرین نے سما ٹی وی کی ڈی ایس این جی وین میں توڑ پھوڑ کی۔ اس میں موجود تمام سامان لوٹ لیا جس میں کیمرے، لیپٹ ٹاپ، بیٹریاں اور دیگر سامان شامل تھا، اس کے بعد گاڑی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔

اگرچہ دوپہر کے بعد تمام پیمرا کے حکم پر تمام چینلز کی نشریات ملک بھر میں بند کردی گئیں لیکن چینلز کی نشریات انٹرنیشنل سطح پر جاری رہیں۔ جس کی وجہ سے تمام چینلز کے کارکنوں کو لگاتار کام کرنے کے لیے کہا جاتا رہا۔

اس دھرنا کے دوران صرف ایک نجی چینل 92 نیوز کو مکمل آزادی دی گئی تھی کہ ان کی ڈی ایس این جی یا کسی کارکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ اس کی وجہ بتائی جاتی ہے کہ اس چینل کے مالکان اسی مذہبی جماعت کے قائدین کے نہ صرف بہت قریب ہیں بلکہ دھرنے کے آغاز سے سب سے زیادہ کوریج اسی چینل پر دی جارہی تھی۔ کوریج کے ساتھ ساتھ بتایا جارہا ہے کہ مالکان کی طرف سے دھرنا شرکاٗ کو کھانا بھی پہنچایا جاتا رہا ہے۔

کوریج کے دوران صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ مظاہرین کسی بھی کیمرہ مین کو فوٹیج یا تصویر بنانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ کسی بھی جلتی ہوئی گاڑی کی فوٹیج یا تصویر بنانے پر کیمرہ اور موبائل فون چھین کر توڑ دیے جاتے تھے۔ کئی صحافیوں کو مظاہرین نے گھیرے میں لیکر تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

اس صورتحال میں صحافیوں کے قائدین عام رپورٹرز اور کیمرہ مینوں کے لیے صرف بیان جاری کرنے تک محدود رہے اور راول پنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کی طرف سے ایک پیغام واٹس ایپ پر دیا گیا کہ ڈیسک انچارج اپنے رپورٹرز اور کیمرہ مینوں کو فساد زدہ علاقہ میں جانے کے لیے مجبور نہ کریں۔

حکومتی رٹ اور پولیس جس قدر بے بس تھی اس صورتحال میں پولیس سے مدد مانگنا کسی بھی صحافی کے لیے ممکن نہ تھا۔

ڈی ایس این جی وینز پر حملوں کے بعد زیادہ تر چینلز نے اپنی قیمتی ڈی ایس این جی وینز نکال لیں اور رپورٹرز اور کیمرہ مینوں کو ہدایت کی گئی کہ واٹس ایپ کے ذریعے موبائل فون پر بنائی گئی فوٹیجز بھجوائی جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG