رسائی کے لنکس

دھرنے کے خلاف کارروائی، موجودہ اور سابق وزیر داخلہ کے تلخ بیانات


فائل

احسن اقبال نے کہا ہے کہ فیض آباد آپریشن کے روز ہلاکتیں راولپنڈی میں چوہدری نثار کے گھر پر حملے کے دوران ہوئیں، جس کے جواب میں چوہدری نثار نے احسن اقبال کو ایک غیر ذمہ دار اور بے خبر وزیر داخلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے گھر میں کوئی ہلاکت تو درکنار کوئی شخص زخمی تک نہیں ہوا

پاکستان کے موجودہ وزیر داخلہ احسن اقبال اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان بیانات کی ایک نئی جنگ چھڑ گئی ہے، جبکہ وزیر داخلہ احسن اقبال آپریشن سے ہی بری الذمہ ہوگئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن عدالت کے حکم پر ڈپٹی کمشنر اور آئی جی کی زیر نگرانی میں ہوا۔

احسن اقبال نے کہا ہے کہ فیض آباد آپریشن کے روز ہلاکتیں راولپنڈی میں چوہدری نثار کے گھر پر حملے کے دوران ہوئیں، جس کے جواب میں چوہدری نثار نے احسن اقبال کو ایک غیر ذمہ دار اور بے خبر وزیر داخلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے گھر میں کوئی ہلاکت تو درکنار کوئی شخص زخمی تک نہیں ہوا۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا یہ بیان نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر ایک انٹرویو کے دوران سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ فیض آباد میں ہونے والا آپریشن ان کی زیر نگرانی نہیں ہوا؛، آپریشن کرنے یا روکنے کا فیصلہ اسلام آباد انتظامیہ نے کیا۔

احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ روز فیض آباد میں ان کی نگرانی میں آپریشن نہیں ہوا، ضلعی انتظامیہ کے ڈپٹی کمشنر اور آئی جی پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر آپریشن کیا۔ فیض آباد دھرنے کے خلاف آپریشن روکنے کا فیصلہ انتظامیہ کا تھا جب کہ آپریشن کا فیصلہ بھی انتظامیہ نے ہی کیا تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ ‘‘مجھے تو آپریشن کے راستے میں رکاوٹ بننے کے الزام میں عدالت نے توہین کا نوٹس دیا ہوا تھا’’۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ معاملے کے حل کے لیے دیگر علماء سے رابطے میں ہیں۔ ایک گروپ اس شخص کا استعفیٰ مانگ رہا ہےجس کے خلاف ثبوت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل حکومت کا نہیں تمام پارلیمانی جماعتوں کا تھا اور قانون سازی میں حکومت ہی نہیں ساری جماعتیں شریک تھیں، حکومت نے قانون بنایا ہوتا تو ہم سب استعفی دے دیتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ معاملے کے پرامن حل کے حامی تھے، فیض آباد آپریشن کے روز ہلاکتیں راولپنڈی میں چوہدری نثار کے گھر پر حملے کے دوران ہوئیں، یہ بات طے نہیں کہ یہ ہلاکتیں کس کی فائرنگ سے ہوئیں۔ لیکن، ان پر ہمیں بہت افسوس ہے اور پنجاب حکومت اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا بیان سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ دھرنا کے خلاف آپریشن کے روز میرے گھر میں کوئی ہلاکت تو دور کی بات کوئی شخص زخمی بھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’’احسن اقبال اپنی ناہلی چھپانے کے لیے بے سروپا بیانات سے گریز کریں‘‘۔

چوہدری نثار نے احسن اقبال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘کیا یہ وہی شخص نہیں ہے جس نے کہا تھا کہ میں تین گھنٹوں میں دھرنا کلئیر کرادوں گا اور اب آپریشن کا سارا بوجھ عدالت پر ڈال رہے ہیں۔ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ملک کا وزیر داخلہ اتنا بے خبر اور غیر ذمہ دار ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’احسن اقبال کے عہدے کا تقاضہ تھا کہ آپریشن پر بہانے بنانے کی بجائے اپنی انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔‘‘

دو سابق وزرائے داخلہ کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کے بعد ان اطلاعات کو تقویت مل رہی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اندر اختلافات بڑھتے جارہے ہیں۔ دھرنے کے حساس معاملے پر جہاں حکومت انہتائی مشکل میں ہے اور پورا ملک جام ہوچکا ہے، سابق اور موجودہ وزیر کے ایسے بیانات پارٹی کے اندرونی اختلافات اور چوہدری نثار کو ’سائیڈلائن‘ کیے جانے کو ظاہر کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG