رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی پاکستان میں اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت


سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں موجود امریکہ شہریوں کو ’سی آئی اے‘ سے متعلق جاری کردہ رپورٹ سے آگاہ ہونا چاہیئے اور اُنھیں اپنے اردگر نظر رکھتے ہوئے سلامتی سے متعلق مناسب اقدامات کرنے چاہیئں

امریکی انٹیلی جنس ادارے ’سی آئی اے‘ کی طرف سے زیر تحویل افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے غلط سلوک سے متعلق رپورٹ کے اجرا کے بعد ممکنہ ردعمل کے تناظر میں پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے اور سلامتی سے متعلق خبردار رہنے کو کہا ہے۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی نے منگل کو رپورٹ کی سمری جاری کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا کہ ’سی آئی اے‘ نے دہشت گردی کے الزام میں تحویل میں لیے گئے افراد کے ساتھ غلط سلوک روا رکھا اور تفتیش کے طریقوں کے موثر ہونے کے بارے میں کانگریس اور امریکی عوام کو گمراہ کیا۔

سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں موجود امریکہ شہریوں کو ’سی آئی اے‘ سے متعلق جاری کردہ رپورٹ سے آگاہ ہونا چاہیئے اور اُنھیں اپنے اردگر نظر رکھتے ہوئے سلامتی سے متعلق مناسب اقدامات کرنے چاہیئں اور مظاہروں یا تصادم کی صورت حال سے دور رہنا چاہیئے۔

بیان میں امریکی شہریوں سے کہا گیا کہ وہ صورت حال پر مقامی میڈیا اور سفارت خانے کی ویب سائیٹ کے ذریعے نظر رکھیں اور ایسی جگہوں پر جانے سے اجتناب کریں جہاں زیادہ لوگ ہوں۔

سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا کہ دوران سفر امریکی شہری راستے بدل کر سفر کریں۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بعض شدت پسند عناصر کی طرف سے رپورٹ کے اجرا کے بعد ردعمل کا خطرہ ہے۔

’’دہشت گردی کی جنگ میں جو ان کے مخالفین ہیں ان کو بھی یہ ایک انتقام کے حساب سے ہو گا کہ یہ ہمارے بندوں پر زیاتیاں کرتے ہیں تو ہم بھی ان پر زیاتیاں کریں تو اس قسم کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے‘‘

واضح رہے کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے بھی یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشتبہ دہشت گردوں سے تفتیش کے لیے "انتہائی سخت" طریقے استعمال کرنے والے سی آئی اے کے حکام کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

صدر براک اوباما اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ایسی رپورٹ جاری کرنے کا کوئی مناسب وقت نہیں ہوتا لیکن ان کے بقول جب ملک کوئی غلطی کرے تو ضروری ہے کہ اسے تسلیم کرے۔

XS
SM
MD
LG