رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی مسلمان بستی پر دہشت گردی کا منصوبہ ناکام


ملزمان

پولیس کے مطابق، پولیس کو ہائی سکول کے ہی ایک طالب علم کی طرف سے اس منصوبے کی اطلاع ملی تھی جس نے کچھ سکول کے طلبا کو آپس میں نئے سکول شوٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا تھا

امریکہ میں مسلمانوں کی بستی، ’اسلام برگ‘ کے خلاف ایک مبینہ دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے، اے ایف پی کے مطابق، چار نوجوانوں کو امریکی نیو یارک سٹیٹ کی پولیس نے مسلمانوں کی ایک چھوٹی سے کمیونٹی، اسلام برگ پر دہشت گرد حملے کے منصوبے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق، ان نوجوانوں نے اس کمیونٹی پر حملہ کرنے کے لئے خطرناک ہتھیار بھی بنا لیے تھے۔

پولیس کے ترجمان جیرڈ رین کے مطابق، پولیس نے ان نوجوانوں کے گھروں سے تین دھماکہ خیز ہتھیار اور 23 دیگر ہتھیار جن میں زیادہ تر شاٹ گنز شامل ہیں برآمد کر لی ہیں۔

ان چاروں افراد پر، جن کی عمریں 16 سے 20 برس تک کی ہیں، ’’ممکنہ طور پر جان لیوا‘‘ منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ، امریکی ریاست نیویارک میں بسی ایک مسلمان آبادی کے خلاف بنایا گیا تھا جس کا نام اسلام برگ ہے۔

پولیس کے مطابق، پولیس کو ہائی سکول کے ہی ایک طالب علم کی طرف سے اس منصوبے کی اطلاع ملی تھی جس نے کچھ سکول کے طلبا کو آپس میں نئے سکول شوٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا تھا۔

جب حکام نے ان بچوں کے گھروں کی تلاشی لی تو انہیں والدین کی جانب سے قانونی طور پر خریدے ہوئے ہتھیار ملے، مگر ساتھ ہی اس منصوبے کا بھی انکشاف ہوا۔

ترجمان نے کہا ’’بچوں نے درست اقدام کیا۔ انہوں نے جب کچھ مشکوک سنا، تو اس کے بارے میں اطلاع دے دی۔ یہ ایک مشترکہ کوشش تھی جس سے ایک خطرناک جان لیوا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔‘‘

اسلام برگ نامی یہ کمیونٹی ’دی مسلم آف امریکہ‘ نامی ادارے کی طرف سے چلائی جاتی ہے۔ اس ادارے نے کمیونٹی کو ممکنہ طور پر جان لیوا منصوبے سے بچانے پر حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اپنی پریس ریلیز میں ادارے نے خدا کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ حکام کی جانب سے کمیونٹی کی حفاظت کے لئے دن رات کوششوں کو بھی سراہا۔ کمیونٹی نے ان بچوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پولیس کو اس خطرناک منصوبے کی اطلاع دی۔

کمیونٹی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی اطلاع کے بعد کمیونٹی کے بڑے اور بچے شدید سراسیمگی کے عالم میں ہیں۔

کمیونٹی کی ویب سائیٹ کے مطابق، یہ مقامی امریکیوں پر مشتمل اکلوتی مسلمان کمیونٹی ہے جسے 1980 میں شیخ سید مبارک علی شاہ گیلانی ہاشمی نے قائم کیا جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔

اسلام برگ نامی یہ کمیونٹی ماضی میں بھی انتہا پسندوں کے مسلسل نشانے پر رہی ہے۔

پچھلے برس ایک امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے ایک امریکی باشندے رابرٹ ڈوگارٹ کو 2015 میں اس کمیونٹی کی مسجد کو جلانے کا منصوبہ بنانے کے جرم میں 20 برس کی سزا سنائی تھی۔

رابرٹ ڈوگارٹ کو اپریل 2015 میں تب ایف بی آئی نے گرفتار کیا تھا جب وہ فون پر لوگوں کو یہ کہتے پائے گئے کہ وہ اسلام برگ کی کمیونٹی پر حملے کے لئے ایک ملیشیا بنانا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG