رسائی کے لنکس

سیاسی گفتگو میں دانستہ طور پر فوج اور اس کی قیادت کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی: آئی ایس پی آر


پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں مسلح افواج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے۔ سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور مبصرین کے غیر مصدقہ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کا عمل انتہائی نقصان دہ ہے۔

آئی ایس پی آر کے اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں دانستہ طور پر پاکستان کی مسلح افواج اور اس کی قیادت کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ کوشش مسلح افواج کے ساتھ ساتھ اس کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے ہے۔ یہ کوششیں عوامی فورمز اور سوشل میڈیا سمیت مختلف فارمز پر کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق فوج اور اس کی قیادت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسے سیاست میں گھسیٹنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔

یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب بہت ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج اور اس کی قیادت توقع کرتی ہیں کہ سب افراد قانون کی پاسداری کریں گے اور مسلح افواج کو ملک کے بہترین مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں گے۔

آئی ایس پی آر کے اس بیان کے بارے میں سابق لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر کسی کو سیاسی اختلاف ہے تو وہ اس کا اظہار کرے لیکن سرحد پر کھڑے فوجیوں کا حوصلہ ختم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ فوج کے جوانوں کا مورال ان باتوں سے کم ہوتا ہے کہ وہ ملک اور جس ادارے کے لیے جان قربان کرنے کو تیار ہیں، اس کے خلاف روزانہ ہتک آمیز گفتگو کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت میں منتخب افراد نے اپنی وفاداریاں تبدیل کیں اور حکومت تبدیل کرنے کا باعث بنے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ان کا احتساب کریں لیکن اس میں پاکستان کی فوج کو ملوث نہ کریں۔

صحافیوں کی طرف سے براہِ راست فوج کی قیادت کا نام لینے پر سابق جنرل امجد شعیب نے بعض صحافیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بعض ادارے اس میں براہِ راست ملوث ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض صحافی روزانہ پاکستان کی فوج کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے جھوٹی باتیں کر رہے ہیں۔ چند ایک صحافیوں کو فوج کے خلاف بات کرنے پر نوٹس جاری ہوئے ہیں البتہ بعض کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ایسا کام کوئی بھی کر رہا ہو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ایسے ہی سیاسی جماعتوں میں وہ تمام جماعتیں جو فوج کو بدنام کر رہی ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ پہلے پی ٹی آئی کے جھنڈے والی گاڑیوں کو کینٹ ایریاز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور اب کینٹ ایریاز میں اے آر وائی کی نشریات عمران خان کے جلسہ کے وقت بند کر دی گئیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر اس کی وضاحت دیں۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں سے سوال کرنا بنیادی جمہوری حق ہے۔

سوشل میڈیا پر تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے بیان پر بھی بات کی جا رہی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ مغل دورِ حکومت میں سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر نے غداری کی اور انگریزوں نے ان کا صوبہ لوٹ لیا۔ میر صادق نے ٹیپوسلطان سے غداری کی۔ واضح رہے کہ سابق وزیرِ اعظم نے یہ بیان اتوار کو ایبٹ آباد میں جلسے میں دیا تھا۔

پاکستان کی فوج کی طرف سے حالیہ بیان کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان خود کہتے ہیں کہ وہ ایک انٹیلی جنس افسر کی پوسٹنگ نہیں چاہتا تھا۔ وہ خفیہ ادارے کا وہ افسر عمران خان کی آنکھ اور کان ہی نہیں، ان کے ہاتھ بھی تھا، جس سے وہ مخالفین کی گردن دبوچتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جیسے ہی بے فیض ہوئے ان کی حکومت گرگئی۔

پاکستان کی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ مختلف صحافی بھی اس وقت حکومت اور اداروں پر تنقید کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے وابستہ اینکر سمیع ابراہیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہوں نے براہِ راست فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لے تنقید کی کہ اب ان کو جواب دینا ہوگا۔ اس وقت اپوزیشن کے لوگ خود اکٹھے نہیں ہوسکتے تھے۔ ان کو اکٹھا کیا گیا۔ سمیع ابراہیم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ امریکہ سے آنے والے سائفر بھی چھ جگہوں پر آنے کے باوجود چھپا لیا گیا۔ پاکستان کی فوج اس بارے میں جواب دے۔

ایسے ہی بیانات صحافی نجم سیٹھی نے بھی دیے جس میں ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند دن میں پشاور کے کور کمانڈر جنرل فیض حمید کو جی ایچ کیو ٹرانسفر کرکے ان کی جگہ نیا کورکمانڈر تعینات کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا میں ہونے والی اس تنقید کے حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مختلف سیاسی جماعتوں کے میڈیا ونگ ایسے بیانیے بنا رہے ہیں اور ان میں سے اکثر چیزیں ایسے پیش کی جاتی ہیں جن کی تصدیق نہیں ہوتی۔

مظہر عباس نے کہا کہ سیاست میں جس طرح کی ہنگامہ خیزی نظر آ رہی ہے ایسی عمران خان کی حکومت بھی نظر آرہی تھی۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی طرف سے بھی ایسی چیزیں نظر آتی رہی ہیں۔

مظہر عباس نے کہا کہ عمران خان نے ہی امپائر کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ پاکستان کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیاست سے دور رہنا چاہتے ہیں لیکن عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو لگتا ہے کہ ان کی طرف سے نیوٹرل رہنے کا ان کا فیصلہ درست نہیں اور انہیں ان کی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ اسی وجہ سے کچھ عرصے سے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر براہِ راست تنقید کی گئی۔ ان کے ساتھ کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں بھی روزانہ خبریں آتی ہیں۔

فوج کے بعض افسران کے حوالے سے تبصروں پر ان کا کہنا تھا کہ ان خبروں کی وجہ سے کور کمانڈرز اور دیگر افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے آج فوج کے ترجمان کی جانب سے پریس ریلیز سامنے آئی ہے۔

ان کے خیال میں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ڈی جی آئی ایس پی آر اس بارے میں واضح پریس کانفرنس بھی کرسکتے ہیں جس میں واضح طور پر ان چیزوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں کہ یہ چیزیں کہاں سے ہو رہی ہیں۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز سیاسی قیادت اور سوشل میڈیا پر متحرک افراد کے لیے ایک سخت بیان اور واضح پیغام ہے۔

صحافیوں کی طرف سے لگاتار سیاسی شخصیات کی حمایت اور مخالفین کے بارے میں پروپیگنڈا کرنے پر مظہرعباس کا کہنا تھا کہ صحافت کی تعریف بھی بدلی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ صحافی کو نیوٹرل نہیں ہونا چاہیے اور حق سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔ اب حق اور سچ کہاں ہے اس کا فیصلہ بھی خود ہی کر لیا جاتا ہے۔

مظہرعباس نے کہا کہ صحافی ایک سائیڈ پر کھڑا نہیں ہوتا۔ وہ دونوں سائیڈز کو دکھاتا ہے۔ اگر کوئی ایک طرف ہونے پر یقین رکھتا ہے تو ان کی پارٹی کو باقاعدہ جوائن کرے اور ان کے اسٹیج پر جا کر کھڑے ہوں۔ صحافی کہتے ہی اسے ہیں جو سچ اور جھوٹ کی تمیز بتائے۔ اپنی خبر اور تبصروں کے ذریعے سچ اور جھوٹ میں فرق بتائے۔

ان کے مطابق یہاں یر ہر کسی کا اپنا سچ ہے اور ایسے صحافیوں کو مخالف افراد سننے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے اور صرف نام دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہ ایک جماعت کی نمائندگی کریں گے اور دوسروں کے خلاف ہی بولیں گا۔ بعض افراد اگر اسے ہی صحافت سمجھتے ہیں تو سمجھتے رہیں۔ وہ ایسے افراد سے متفق نہیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG