رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل اور حماس کے درمیان 72 گھنٹوں کی جنگ بندی کا آغاز


اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں مصر، قطر اور ترکی کی حکومتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 72 گھنٹے کی غیر مشروط جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے جنگ بندی شروع ہوئی، اُدھر قاہرہ میں دیرپا جنگ بندی کے معاہدے کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل اور فلسطینی علاقے غزہ پر حکمران 'حماس' نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 72 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا تھا۔

فریقین کی جانب سے جنگ بندی پر اتفاق کا اعلان امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے جمعرات کی شب جاری کیے جانے و الے ایک بیان میں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ غزہ کے مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح آٹھ بجے سے مؤثر ہونے و الی جنگ بندی کے دوران "فریقین کی زمینی افواج اپنی اپنی جگہوں پر موجود رہیں گی"، جس کا مطلب ہے کہ غزہ میں موجود اسرائیلی فوجی دستے اپنی جگہیں نہیں چھوڑیں گے۔

بیان کے مطابق کہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ سیرے کو تنازع کے تمام فریقین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی اس جنگ بندی کی پاسداری کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

بیان میں جان کیری اور بان کی مون نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی موثر ہونے سے قبل تحمل کا مظاہرہ کریں اور جنگ بندی کی مدت کے دوران اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں پر قائم رہیں۔

مشترکہ بیان میں دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ 72 گھنٹوں کی یہ جنگ بندی تشدد کا شکار ان معصوم شہریوں کے لیے ایک غنیمت ہے جو سکون کے چند لمحات کے خواہش مند ہیں۔

غزہ پر حکمران فلسطینی مزاحمتی تنظیم 'حماس' نے جنگ بندی کی پاسداری کا اعلان کیا ہے۔

'حماس' کے ترجمان سمیع ابو زہری نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ غزہ میں سرگرم دیگر مزاحمتی تنظیموں نے بھی انہیں جنگ بندی کی پاسداری کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔

ترجمان کے مطابق تمام فلسطینی دھڑے اس وقت تک جنگ بندی کی پاسداری کریں گے جب تک فریقِ مخالف [اسرائیل] اس پر کاربند رہتا ہے۔

سیکریٹری کیری اور بان کی مون کی جانب سے جاری کیے جانے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی موثر ہوتے ہی اسرائیل اور فلسطین کے وفود مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچیں گے جہاں وہ مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کریں گے۔

اقوامِ متحدہ کے سیاسی امور کے نگران جیفری فیلٹ مین نے کہا ہے کہ تین روز کی جنگ بندی پر فریقین کی آمادگی کئی روز سے جاری سر توڑ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

جناب فیلٹ مین نے امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں مصر ، قطر اور ترکی کی حکومتوں نے اہم کردار اداکیا ہے۔

جنگ بندی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب غزہ کی پٹی پر آٹھ جولائی سے جاری اسرائیلی بمباری اور فضائی حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1427 ہوگئی ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرئیلی حملوں کے نتیجے میں سات ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں اور ان کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 56 اسرائیلی فوجی بھی مارے جاچکے ہیں جب کہ 'حماس' کے راکٹ حملوں میں تین اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG