رسائی کے لنکس

اسرائیل کی غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو بااختیار بنانے کے امریکی منصوبے کی مخالفت


اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی میں موجود نظر آرہے ہیں
اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی میں موجود نظر آرہے ہیں

اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو بااختیار بنانے کے امریکی منصوبے کی مخالفت کر دی ہے اور کہا ہے کہ غزہ کو غیر عسکری بنانے کے لیے صرف اسرائیل کی دفاعی افواج پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ ایک ایسے روڈ میپ پر کام کر رہا ہے جس کے تحت غزہ میں جاری جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے ایک مضبوط فلسطینی اتھارٹی کا قیام ہے۔ یہی نہیں یہ اتھارٹی مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دو ریاستی حل کی جانب مذاکرات کے لیے اسرائیل کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بھی بنے گی۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق ایک تجویز زیرِ غور ہے جس کے مطابق غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کے بقیہ ارکان کو جنگ کے بعد امن قائم کرنے کی فوج کے 'نیوکلیئس' کی تشکیل کے لیے بااختیار بنایا جائے گا۔

تاہم، اسرائیل اس منصوبے کی مخالفت کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو دوبارہ منصب دینے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ان کے بقول، غزہ کو غیر عسکری بنانے کے لیے صرف اسرائیل کی دفاعی افواج پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کی غزہ میں فوجی مہم کو روکنے کے لیے صدر جو بائیڈن کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

فوری طور پر درپیش چیلنجز

امریکی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک اسرائیلیوں کو اس منصوبے میں شامل کرنا اور دوسرا فلسطینیوں کو اس کے لیے تیار کرنا ہے۔

اس وقت فلسطینی اتھارٹی کو قابلِ اعتبار مینڈیٹ کا فقدان ہے جو اسے غزہ کی سلامتی اور مستقبل کا فیصلہ کرنے میں حصہ لینے کے لیے درکار ہوگا۔

فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ کی طرف سے گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے جنگ کے وقت کے رائے عامہ کے سروے سے پتا چلتا ہے کہ فلسطینیوں کی بھاری اکثریت فلسطینی اتھارٹی کے رہنما محمود عباس کو مسترد کرتی ہے۔

اس سروے کے مطابق تقریباً 90 فی صد فلسطینیوں نے کہا کہ محمود عباس کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ اس سے قبل کی ایک رائے شماری سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ تر فلسطینیوں کا خیال ہے کہ فلسطینی اتھارٹی بدعنوان ہے۔

تھنک ٹینک 'کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس' سے منسلک ماہر ہارون ڈیوڈ ملر، جو کہ امریکی صدور رونلڈ ریگن، بل کلنٹن، جار ایچ بش اور جارج ڈبلیو بش کے ادوار میں مشرقِ وسطیٰ کے امن مذاکرات میں شامل تھے، کہتے ہیں کہ محمود عباس بہت کمزور ہیں۔

ملر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ محمود عباس کو سیکیورٹی کے حوالے سے ایک 'اسرائیلی ذیلی ٹھیکیدار' سمجھا جاتا ہے۔

سال 1994 میں قاہرہ معاہدے کے تحت قائم ہونے والی فلسطینی اتھارٹی کی فورسز نے مغربی کنارے کے تقریباً 40 فی صد حصے میں کام کیا ہے اور اسرائیل کی دفاعی افواج کے چھاپوں اور اسرائیلی آباد کاروں کی توسیع پسندانہ سرگرمیوں کے دوران فلسطینی اتھارٹی کی فورسز علاقے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اہم رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل مغربی کنارے کے باقی حصوں کو کنٹرول کرتا ہے اور اس علاقے میں لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت پر پابندی لگاتا ہے۔ اس نے سن 2006 کے قانون ساز انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد 2007 سے غزہ کی پٹی پر ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

امریکی سیکیورٹی کوآرڈینیٹر برائے اسرائیل و فلسطینی اتھارٹی سال 2007 سے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کو تربیت، فنڈنگ، ہتھیار اور دیگر مدد فراہم کر رہا ہے۔

تاہم، حماس کی جیت کی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی کی غزہ سے بے دخلی کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے تحت کام کرنے والی سیکیورٹی فورسز وہاں بڑی حد تک غیر فعال ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی تجزیہ کار احمد فواد الخطیب کہتے ہیں "امریکہ کو مغربی کنارے سے غزہ میں آنے والے فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کے کچھ ارکان کی حمایت کرنی چاہیے اور وہاں موجود سیکیورٹی اہلکاروں کی بحالی کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔"

الخطیب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ ایسے اہلکار جو صرف حماس حکومت کے تحت کام کرتے ہیں اور وہ لوگ جو حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ سے براہِ راست روابط اور نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں، ان دونوں میں فرق کو جانا جائے۔

غزہ کی نگہبانی کی تجاویز

غزہ میں جنگ کے بعد حالات کے لیے متعدد بین الاقوامی سرپرستی کی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن میں نیٹو ممالک سے ایک بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ یہ تجویز اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود اوہلمرٹ کی طرف سے آئی ہے۔

ایک اور تجویز کے تحت غزہ میں سیکیورٹی فورسز کی تشکیلِ نو اور فلسطینی ریاست کی تعمیر نو کے لیے عرب ممالک کے مشنز کی تعیناتی شامل ہے۔

امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اسٹرٹیجک کمیونی کیشن کے کوآرڈینیٹر جان کربی نے منگل کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران وائس آف امریکہ کو بتایا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم ابھی اس مرحلے پر ہیں جہاں ہم کسی ایک آپشن یا کسی دوسرے کی توثیق کر سکتے ہیں۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی جنگ کے بعد کی حکمرانی میں 'قابلِ اعتماد طور پر شامل' ہونے کے لیے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔

آخری بار فلسطینی قانون ساز انتخابات 2006 میں ہوئے تھے جس کے بعد غزہ میں حماس کو اقتدار ملا تھا جب کہ 2005 میں ہونے والے آخری صدارتی انتخابات میں محمود عباس نے کامیابی حاصل کی تھی۔

جنگ کے بعد غزہ کا اسٹیٹس

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کہتے ہیں غزہ کے کچھ حصے جنگ کے بعد کی حیثیت میں منتقل ہونے کے قریب ہیں لیکن دیگر حصوں کو شدید لڑائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے نو اکتوبر کو غزہ پر فضائی بمباری شروع کی، جس کے بعد 27 اکتوبر کو زمینی حملہ کیا گیا۔

امریکہ نے نیتن یاہو کی جنگی کابینہ پر اپنی مہم کو مزید سرجیکل بنانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، لیکن توقع ہے کہ بھاری جنگ مہینوں نہیں تو کم از کم مزید چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔

بائیڈن انتظامیہ نے جنگ کے ابتدائی ہفتوں سے ہی جنگ کے بعد کے منصوبے پر کام کیا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے 31 اکتوبر کو امریکی قانون سازوں کے سامنے کہا تھا کہ جنگ کے بعد ایک وقت ایسا ہو گا جہاں سب سے زیادہ معنی خیز بات یہ ہو گی کہ ایک مؤثر اور زندہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کے لیے گورننس اور بالآخر سیکیورٹی کی ذمہ داری سونپی جائے۔

فورم

XS
SM
MD
LG