رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ 'بڑی غلطی' ہے: نیتن یاہو


سعودی عرب نے کہا ہے کہ اگر اس معاہدے سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے تو یہ ایک "خوش آئند معاہدہ" ہے بصورت دیگر اس سے تہران کو "خطے میں بدامنی پھیلانے" کی اجازت مل جائے گی۔

ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو جہاں بین الاقوامی سطح پر "ایک احسن قدم" قرار دیا جا رہا ہے وہیں سعودی عرب اور اسرائیل کی طرف سے اس پر خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل ایران سے مغربی طاقتوں کے مذاکرات کی شروع ہی سے مخالفت اور اس پر تنقید کرتا آیا ہے جب کہ سعودی عرب، ایران کا روایتی حریف ہے۔

منگل کو ویانا میں مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کے فوراً بعد ہی اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسے ایک غلطی قرار دیا۔

"یہ تاریخی مضمرات والی ایک بڑی غلطی ہے، ایران کو اس سے بہت فائدہ ہو گا اسے کھربو ڈالر کا خزانہ مل جائے گا جس سے وہ خطے اور دنیا میں اپنی جارحیت رکھنے کے لیے استعمال کرے گا۔"

ایران نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا اور ماضی میں اس کے رہنماؤں کی طرف سے یہ بیانات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ وہ "اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔"

اسرائیل کا اصرار ہے ایران کا جوہری پروگرام اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ادھر سعودی عرب نے اپنے محتاط ردعمل میں کہا ہے کہ اگر اس معاہدے سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے تو یہ ایک "خوش آئند معاہدہ" ہے بصورت دیگر اس سے تہران کو "خطے میں بدامنی پھیلانے" کی اجازت مل جائے گی۔

ایک سعودی عہدیدار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے "روئٹرز" کو بتایا کہ ایران نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنی سرگرمیوں سے پورے مشرق وسطیٰ کو عدام استحکام کا شکار کر دیا ہے اور اگر معاہدے میں اسے رعائتیں دی گئیں تو اس سے خطہ مزید خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG