رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے ساتھ مذاکرات کا وقت نہیں رہا، اسرائیل


اسرائیلی وزیر نے کہا کہ اگر ایران نے اسی رفتار سے اپنی پیش رفت جاری رکھی تو وہ چھ ماہ کے اندر ایٹم بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔

اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے کیوں کہ ان کے بقول ایران اگلے چھ ماہ میں ایٹم بم تیار کرلے گا۔

اسرائیل کے وزیر برائے اسٹریٹجک امور یوول اسٹینیز نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھ کر مزید وقت حاصل کرسکتا ہے۔

ان کےبقول جب تک امریکہ ایران کو فوجی کاروائی کی واضح دھمکی نہیں دے گا، تہران حکومت اپنی جوہری سرگرمیاں نہیں روکے گی۔

جمعے کو اسرائیلی اخبار 'حیوم' میں شائع ہونے والے انٹرویو میں یوول اسٹینیز نے کہا ہے کہ وہ اس حقیقت کے قائل ہوچکے ہیں کہ ایران کے ساتھ اب مزید بات چیت کا وقت نہیں رہا اور اسے جوہری بم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوری اقدام ضروری ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کو شبہ ہے کہ ایران خفیہ طور پر ایٹم بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایرانی حکومت اس الزام کی تردید کرتی آئی ہے۔

اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ایران کے مشتبہ جوہری پروگرام پر چار برسوں سے جاری عالمی مذاکرات کی آڑ میں ایران نے اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے بقول اگر ایران نے اسی رفتار سے اپنی پیش رفت جاری رکھی تو وہ چھ ماہ کے اندر ایٹم بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔

اسرائیل کی حکومت نے ایران کے نئے صدر حسن روحانی کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام پر مغرب کو کی جانے والی مذاکرات کی واضح پیش کش اور جوہری ہتھیار کبھی تیار نہ کرنے کے واضح اعلان کو بھی مسترد کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران صدر کے "مکارانہ الفاظ" سے کسی کو بے وقوف نہیں بننا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا تھا "ایرانی ایسے بیانات دے کر میڈیا کو چکر دے رہے ہیں تاکہ ان کے سینٹری فیوجز کا پہیہ گھومتا رہے"۔
XS
SM
MD
LG