رسائی کے لنکس

غوطہ خور کو بحیرہ روم سے 900 سال پرانی تلوار مل گئی


اسرائیلی آثار قدیمہ کے ادارے کے عہدے دار یاکوف شاروت بحیرہ روم سے دریافت ہونے والی قدیم تلوار کے ساتھ۔ 18 اکتوبر 2021
اسرائیلی آثار قدیمہ کے ادارے کے عہدے دار یاکوف شاروت بحیرہ روم سے دریافت ہونے والی قدیم تلوار کے ساتھ۔ 18 اکتوبر 2021

اسرائیل کے آثار قدیمہ کے ادارے نے منگل کے روز بتایا کہ ایک غوطہ خور کو بحیرہ روم میں تیراکی کے دوران ایک بڑی تلوار ملی ہے جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ تقریباً 900 سال پرانی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صلیبی جنگیں لڑی جا رہی تھیں۔

آثار قدیمہ کے ادارے میں سمندر سے ملنے والی قدیم اشیا کے ڈائریکٹر یاکوف شاروت نے بتایا کہ ایک شوقیہ غوطہ خور کچھ دن پہلے اسرائیلی بندرگاہ حیفا کے قریب سمندر میں تقریباً 150 میٹر کے فاصلے پر تیر رہا تھا، اس دوران اس نے سمندر کی تہہ میں، سطح سے لگ بھگ چار پانچ میٹر نیچے ایک تلوار پڑی ہوئی دیکھی جو مٹی اور دیگر چیزوں سے لت پت تھی۔

شاروت نے بتایا کہ غوطہ خور نے سمندر سے تلوار نکالی اور اسے آثار قدیمہ کے ادارے کے پاس لے گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تلوار لائی گئی تو وہ سمندر کی تہہ میں پائے جانے والی آلائشوں سے لت پت تھی۔

تاہم، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ 31 سال کے دوران انہوں نے اتنی اچھی حالت میں ایسی کوئی قدیم چیز نہیں دیکھی۔

شاروت کے مطابق یہ ایک بڑے سائزکی وزنی تلوار ہے اور یہ لوہے کی بنی ہوئی ہے۔

بحیرہ روم سے دریافت ہونے والی 900 سالہ قدیم تلوار
بحیرہ روم سے دریافت ہونے والی 900 سالہ قدیم تلوار

تلوار کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلوار کی لمبائی تقریباً ایک میٹر ہے۔اس کا دستہ خاصا منفرد ہے اور توجہ اپنی جانب مبذول کروا لیتا ہے۔ تلوار کو ایک نیام میں رکھا گیا تھا، جس پرریت اوردوسری آلائشیں چپکی ہوئی تھیں۔

شاروت کا کہنا تھا کہ یہ تلوار جس سمندری علاقے سے ملی ہے، وہ اسرائیل کے شمالی ساحل پر واقع ایک قدیم صلیبی قلعے عتلیت سے زیادہ دور نہیں ہے، اس لیے یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس کا تعلق صلیبی جنگوں سے رہا ہو گا۔

صلیبی جنگیں قرون وسطیٰ کے یورپی عیسائیوں کی زیر قیادت فوجی مہمات کا ایک طویل سلسلہ تھا جو گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان لڑی گئی تھیں۔

شاروت کا کہنا تھا کہ تاریخی نقطہ نظر سے تلوار کا ہینڈل یا دستہ اس کا سب سے اہم حصہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کی سجاوٹ اور بسا اوقات اس پر کندہ نام یا دوسرے حروف سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہےکہ اس تلوار کا تعلق کس شخصیت اور کس دور سے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ تلوار کی صفائی، معائنے اور اپنی اصلی حالت میں بحالی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اس کی نمائش کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG