رسائی کے لنکس

logo-print

کیا مشرقی یروشلم میں یہودی آباد کاری میں تیزی آئی ہے؟


مشرقی یروشلم (فائل فوٹو)

اسرائیل کے حوالے سے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو سال میں اسرائیل کے دارالحکومت سے منسلک مشرقی یروشلم میں یہودیوں کی آباد کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کے خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق ایک غیر سرکاری تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہودی اور فلسطینی رہائشیوں کو جاری کردہ تعمیراتی اجازت ناموں میں بڑے فرق کی نشاندہی ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے ساتھ عشروں سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

مشرقی یروشلم میں آباد بستیوں میں کی جانے والی توسیع کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیل میں کشیدگی بڑھنے کے خطرات ہیں۔

یاد رہے کہ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطین میں کئی علاقوں پر قبضے کے حوالے سے بھی تنازعات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی رہائشیوں کو اجازت نامہ دینے سے انکار کی وجہ سے فلسطینی سہولیات سے محروم علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ جبکہ آدھی آبادی کو ان کے گھر منہدم ہونے کا خوف رہتا ہے۔

اسرائیل میں آباد کاری سے متعلق کام کرنے والی تنظیم ‘پیس ناؤ’ کے مطابق مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی 60 فی صد آبادی ہونے کے باوجود تعمیرات کے لیے انہیں 1991 کے بعد سے صرف 30 فی صد اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔

مشرقی یروشلم میں یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات واقع ہیں۔ ان مقدس مقامات کی وجہ سے یہ کئی دہائیوں پرانے تنازع کا مرکز ہے۔

فلسطینی چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم ان کی ریاست کا دارالحکومت بنے جب کہ اسرائیل پورے شہر کو اپنا متحدہ دارالحکومت سمجھتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم کو 2017 میں اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا جس کے بعد امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس وقت سے اس تنازع میں مزید تناؤ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔

پیس ناؤ کے مطابق صدر ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بعد دو سال میں حکام نے 1861 گھروں کی تعمیر کی اجازت دی۔ جو کہ پچھلے دو سال میں جاری کردہ 1162 اجازت ناموں سے 60 فی صد زیادہ ہے۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2000 میں سب سے زیادہ جاری کردہ اجازت ناموں کے بعد صرف 2017 میں ہی 1081 اجازت نامے جاری کیے گئے۔

پیس ناؤ کے مطابق سال 2017 اور 2018 میں 1233 گھروں کی تعمیر کے اجازت نامے فلسطینیوں کو جاری کیے گئے۔

اعداد و شمار پر اسرائیل کی حکومت یا بلدیہ کے ترجمان کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

پیس ناؤ کے مطابق آج دو لاکھ 15ہزار کے لگ بھگ یہودی مشرقی یروشلم میں آباد ہیں۔ جسے اسرائیل اپنے دارالحکومت سے متصل علاقہ سمجھتا ہے جب کہ مشرقی یروشلم میں آباد تین لاکھ 40 ہزار فلسطینی گنجان آباد علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں مزید تعمیرات کے لیے بہت کم گنجائش باقی ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ تعمیرات کے لیے درکار اجازت نامہ حاصل کرنے کے اخراجات اور دشواریوں کی وجہ سے فلسطینی غیر قانونی تعمیرات کرنے پر مجبور ہیں۔

پیس ناؤ کے اندازے کے مطابق مشرقی یروشلم کے فلسطینی علاقوں میں نصف تعمیرات بغیر اجازت حاصل کیے تعمیر کی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG