رسائی کے لنکس

اسرائیل: کرونا وائرس کی مشکلات کے باعث عوام میں بے چینی بڑھنے لگی


فائل فوٹو

مشرقِ وسطیٰ کے ملک اسرائیل میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی صورتِ حال عوامی ردِ عمل کا سبب بن رہی ہے اور حکومتی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو کی رواں برس مئی میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اختیار کردہ حکمت عملی کو سراہا گیا تھا۔ تاہم وبا کی روک تھام کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے سبب عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق کرونا وائرس کے کیسز میں ہونے والے اضافے کے پیش نظر اسرائیلی حکومت کی طرف سے دوبارہ سے پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی ناقص حکمتِ عملی کی وجہ سے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں کی اجازت دینے والے ملکوں کی فہرست میں شامل تھا اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دعویٰ تھا کہ دنیا اسرائیلی حکومت کے اقدامات کی طرف دیکھ رہی ہے۔

تاہم اس کے برعکس کیسز میں اچانک اضافے کے بعد حکومت ایک مرتبہ پھر مختلف پابندیاں عائد کر رہی ہے جس کے خلاف عوام میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔

حزبِ اختلاف کے سربراہ یائر لیپڈ کا کرونا وائرس سے متعلق حکومتی حکمت عملی پر کہنا ہے کہ لوگ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مشتعل ہیں اور اُنہیں حق ہے کہ وہ مشتعل ہوں۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کی حکومتی حکمتِ عملی پر عوام شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
کرونا وائرس سے نمٹنے کی حکومتی حکمتِ عملی پر عوام شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

دوسری طرف وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے قریبی ساتھی اور وزیر زیچی ہینگبی نے ٹی وی انٹرویو کے دوران معاشی صورتِ حال کے پیش نظر عوامی ردِ عمل کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔

انٹرویو کے دوران زیچی کا کہنا تھا کہ عوام کی طرف سے خوراک کی کمی کی شکایات کی جا رہی ہیں۔ جو کہ دراصل حکومت مخالف رائے عامہ تشکیل دینے کی ایک کوشش ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بہت سے کاروبار متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق زیچی کے انٹرویو کے بعد وزیر کو سیکڑوں کی تعداد میں تنقیدی پیغامات موصول ہوئے ہیں جس میں اُنہیں کہا گیا کہ انہیں اپنے اس بیان پر شرم آنی چاہیے۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں ہونے والے حالیہ تین انتخابات میں کوئی جماعت بھی واضح برتری حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ جس کے بعد وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور اتحادی جماعت کے سربراہ بینی گینتز کے درمیان شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے تحت نیتن یاہو ڈیڑھ سال تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر رہیں گے جس کے بعد یہ عہدہ بینی گینتز کو سونپ دیا جائے گا۔

اس وقت بینی گینتز اسرائیل کے وزیرِ دفاع کی حیثیت سے حکومت کا حصہ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG