رسائی کے لنکس

logo-print

اٹلی: چار ہزار تارکینِ وطن کو ڈوبنے سے بچالیا گیا


اطالوی وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے لیے غیر قانونی تارکینِ وطن کا سیلاب روکنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

اٹلی کی حکومت نے گزشتہ دو روز کے دوران سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے چار ہزار سے زائد افریقی تارکینِ وطن کو ڈوبنے سے بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اٹلی کے وزیرِ داخلہ اینجلینو الفانو نے بدھ کو سرکاری ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ بحیرہِ روم کے راستے خستہ حال کشتیوں پر سوار ہو کر اٹلی کا رخ کرنے والے ان تارکینِ وطن کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی جنہیں بچانے کے لیے حکام کو بغیر وقفے کے امدادی سرگرمیاں انجام دینا پڑیں۔

اطالوی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ان کے ملک کے لیے غیر قانونی تارکینِ وطن کا سیلاب روکنا مشکل ہوتا جارہا ہے اور اس مسئلے کے سدِ باب کے لیے اب تک لگائے جانے والے لاکھوں ڈالرز کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے یورپی یونین سے اپیل کی کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے بحیرۂ روم میں سکیورٹی اہلکاروں کا گشت بڑھانے میں مدد دے۔

خیال رہے کہ ہر سال ہزاروں افریقی باشندے جنگ، غربت اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آکر سنہری مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طور پر سمندری راستے سے یورپ کا رخ کرتے ہیں جہاں اٹلی ان کا پہلا پڑاؤ ہوتا ہے۔

گزشتہ برس اٹلی کے ساحل کے نزدیک بحیرہ روم میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی دو کشتیاں ڈوبنے کے نتیجے میں 400 افراد کی ہلاکت کے بعد اٹلی کی حکومت نے ان تارکینِ وطن کو بچانے کے لیے مستقل بنیادوں پر امدادی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

سرکاری ریڈیو سے گفتگو میں اطالوی وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ رواں سال اب تک 15 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن اٹلی آچکے ہیں جب کہ امکان ہے کہ مزید ہزاروں افراد اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی کشتیوں کے ذریعے لیبیا کے ساحلوں سے اٹلی کا رخ کرنے والے ہیں۔

انہوں نے خستہ حال کشتیوں کے ذریعے شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کو یورپ پہنچانے کے خواب دکھانے والے افراد کو "موت کے سوداگر" قرار دیا۔
XS
SM
MD
LG