رسائی کے لنکس

logo-print

بحیرہ روم میں پھنسے 82 تارکین وطن کو اٹلی جانے کی اجازت مل گئی


اوشن وکی نامی بحری جہاز سے تارکین وطن کو کشتی کے ذریعے ساحل پر پہنچایا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو۔

اٹلی نے بحری جہاز میں پھنسے ہوئے 82 تارکین وطن اپنے ساحل پر اترنے کی اجازت دے دی ہے۔

تاہم اٹلی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اس بارے میں ہماری یہ شرط قائم ہے کہ یورپی یونین کے دوسرے ممالک بھی ان تارکین وطن کو پناہ دیں گے اور صرف اٹلی پر اکیلے اس کا بوجھ نہیں پڑنے دیں گے۔

اوشن وائی کنگ نامی جہاز دو ہفتوں سے کھلے سمندر میں پھنسا ہوا تھا جس پر سوار مسافروں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

اس بحری جہاز کا انتظام انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے پاس ہے۔

اوشن وائی کنگ جہاز کے پہلے مشن میں 356 تارکین وطن کی جان بچائی گئی تھی۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹلی بحیرہ روم میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کی یورپی ملکوں میں تقسیم کرنے کا ایک خودکار نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فرانس اور جرمنی نے اس نئے نظام پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس میں لکسمبرگ، مالٹا، پرتگال، رومانیہ اور اسپین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG