رسائی کے لنکس

logo-print

جاپان میں زلزلے سے نمٹنے کی تربیتی مشق


جاپان میں زلزلے سے نمٹنے کی تربیتی مشق

جاپان کے ہزاروں باشندوں نے جمعرات کو زلزلے سے نمٹنے کی کوششوں پر مشتمل وسیع پیمانے پر ہونے والی ایک تربیتی مشق میں حصہ لیا جو رواں برس مارچ میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی سرگرمی تھی۔

جاپان کے سبکدوش ہونے والے وزیرِاعظم ناؤتو کان نے بذاتِ خود مشق میں حصہ لیا اور ایک مصنوعی پریس کانفرنس میں خلیجِ ٹوکیو میں 3ء7 شدت کے "زلزلہ" کی آمد کا اعلان کیا۔

مشق کے دوران سڑکوں پر موجود پولیس اہلکاروں نے ٹریفک کنٹرول کرنے اور پیدل چلنے والوں کی زلزلہ سے بچاؤ کے شیلٹرز کی جانب رہنمائی کرنے کے فرائض انجام دیے۔ سرکاری اہلکاروں نے گیس کے ممکنہ اخراج کے خدشے کے تحت لائنوں کی جانچ کی جبکہ دیگر نے خلیجِ ٹوکیو کے علاقے میں فضائی اور سمندری راستے سے امدادی سرگرمیاں انجام دینے کی مشق کی۔

جاپان میں مذکورہ مشق ہر سال یکم ستمبر کو انجام دی جاتی ہے۔ 1923ء میں اسی روز آنے والے زلزلے نے ٹوکیو اور یوکو ہاما جیسے بڑے شہروں کا بیشتر حصہ صفحہ ہستی سے مٹادیا تھا جس کے نتیجے میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد جاپانی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں برس ہونے والی مشق اس لیے بھی خاصی اہمیت کی حامل تھی کہ یہ 11 مارچ کے زلزلے اور سونامی کے چھ ماہ بعد منعقد کی گئی جس کے باعث 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے تھے۔ مشق کے موقع پر جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیہ میں جاپانی شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ قدرتی آفات کے تناظر میں ہر قسم کی صورتِ حال سے نمٹنے کی تیاری کریں اور سونامی کے خطرے کو خصوصی اہمیت دیں۔

ایک اندازے کے مطابق جمعرات کو ہونے والی مشق میں لگ بھگ پانچ لاکھ افراد نے حصہ لیا جن میں سے بیشتر نے اسے ایک کارآمد سرگرمی قرار دیا۔

تاہم رواں برس کی قدرتی آفات کا نشانہ بننے والے کئی علاقوں میں مشق منعقد نہ ہوسکی۔ حکام کے مطابق ان علاقوں کے رہائشی ابھی تک "اصلی زلزلے" کے نقصانات پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔

XS
SM
MD
LG