رسائی کے لنکس

logo-print

جاپانی ین کی قدر میں ریکارڈ اضافہ


جاپانی کرنسی ین کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں گذشتہ 15 برسوں کی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جاپان کے اقتصادی ماہرین کو اندیشہ ہے کہ قدر میں اضافے سے ان کی برآمدات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں اور وہ جلد اقدامات کے لیے حکومت پر زور دے رہے ہیں۔

جاپانی عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ ین کی قمیت میں حالیہ اضافے پر قابو پانے کے لیے جلد ہی اقدامات کریں گے۔ حالیہ عرصے میں ڈالر کے مقابلے میں ین کی قیمت گذشتہ 15 برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

ین کی قدر میں اضافے سے بیرونی منڈیوں میں جاپانی مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے اور وہ مہنگائی ہوجاتی ہیں۔ جس سے برآمدات متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ حالیہ عرصے میں جاپان کی کرنسی کی قدر میں تقریباً فی ڈالر 84 ین کااضافہ ہوچکا ہے۔ جس کے بعد سے جاپانی ماہرین اقتصادیات حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ضرورت اقدامات کرے۔

کچھ خبروں میں جاپانی وزیر اعظم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز کاروباری شبعے کے سرکردہ افراد کو بتایا کہ وہ ین کی قدر میں اضافہ روکنے کے لیے متعدد اقدامات کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ حکومتی عہدے دار اس سلسلے میں کیا اقدامات کریں گے۔

بدھ کے روز یورو کے مقابلے میں ین کی قدر گذشتہ نو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کے نتیجے میں جاپان کی نکئی سٹاک مارکیٹ 9000 پوائنٹس سے نیچے گر گئی ۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک چھ اور سات ستمبر کو ین کی قدر پر نظر ثانی سے قبل اپنی مالیاتی پالیسی کو نرم کرسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG