رسائی کے لنکس

logo-print

جاپان: 117 سالہ تناکا نے لمبی عمر کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا


کین تناکا دنیا کی معمر ترین انسان قرار دیے جانے کے موقع پر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔

جاپان کی ایک بزرگ خاتون کین تناکا نے ملک کے جنوبی شہر فوکواوکا کے ایک نرسنگ ہوم میں اتوار کے روز اپنی 117 ویں سالگرہ مناتے ہوئے دنیا کے معمر ترین انسان ہونے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

انہیں گزشتہ سال اپنی 116ویں سالگرہ پر دنیا کی معمر ترین انسان قرار دیا گیا تھا اور ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج کیا گیا تھا۔

کین تناکا نے اپنے دوستوں اور نرسنگ ہوم کے عملے کے ساتھ اپنی سالگرہ منائی۔ انہوں نے سالگرہ کا کیک کاٹا اور اس کا ایک ٹکڑا کھاتے ہوئے کہا، ’’واہ! کتنا مزیدار کیک ہے۔ مجھے تھوڑا سا اور چاہئیے۔‘‘

کین تناکا کی عمر جاپان کی بڑھتی ہوئی عمررسیدہ آبادی کو ظاہر کرتی ہے۔ جاپان میں بچوں کی پیدائش کی شرح کم ہو رہی ہے اور لوگ زیادہ عمر تک زندہ رہ رہے ہیں جس سے یہ خدشات محسوس کیے جا رہے ہیں کہ ملک میں کارکنوں کی کمی واقع ہو سکتی ہے جس سے مستقبل میں معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جاپان میں گزشتہ برس پیدا ہونے والے بچوں کی کل تعداد 9 لاکھ تھی۔ یوں بچوں کی پیدائش میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 5.9 فیصد کمی دیکھی گئی۔ جاپان کی وزارت بہبود کا کہنا ہے کہ 1899 میں اعداد و شمار جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد سے بچوں کی پیدائش میں پہلی بار اس قدر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

کین تناکا 1903 میں پیدا ہوئیں۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق کین تناکا نے 1922 میں ہیدیو تناکا سے شادی کی تھی۔ ان کے چار بچے تھے جب کہ اس جوڑے نے ایک اور یعنی پانچواں بچہ گود لیا تھا۔

انہوں نے 1970 کی دہائی میں امریکہ کا دورہ کیا جہاں ان کے کئی بھتیجے اور بھانجے رہتے ہیں۔

انہیں 103 سال کی عمر میں کینسر کا مرض لاحق ہو گیا۔ جب وہ 107 سال کی تھیں تو ان کے بیٹے نے ان کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں ان کی زندگی اور درازی عمر کے راز کی تفصیلات بیان کی گئیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG