رسائی کے لنکس

آپ نے کبھی اس پر غور کیا کہ جینز کے سامنے دائیں طرف ، اوپر کی جانب ایک چھوٹی سی اضافی جیب کیوں ہوتی ہے اور اس میں تانبے کے کیل نما بٹن کیوں جڑے ہوتے ہیں ؟

انجم ہیرلڈ گل

کیا آپ جینز پہنتے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے بہت سے افراد نے جینز کی پینٹ ضرور پہنی ہے اور اب بھی پہنتے ہوں گے۔ تو آپ نے اب تک جینز کی کل کتنی پتلونیں پہنی ہیں؟ 25 یا 50 یا اس سے زیادہ ؟

امریکہ میں کہا جاتا ہے کہ نیلے رنگ کی جینز اتنی ہی امریکی ہے جتنی کہ ایپل پائی یعنی سیب کا حلوہ۔ یہاں امریکہ میں کاؤ بوائز سے لے کر تقریبا ً تما م مرد 19 ویں صدی سے جینز استعمال کرتے آ رہے ہیں اور اس فہرست میں نامور شخصیات تک شامل ہیں۔

جینز کے بارے میں لوگوں کے نظریات تبدیل ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے بنیادی ڈیزائن میں بظاہر کوئی نمایاں فرق نہیں آیا۔ ایک زمانے جینز صرف مزوروں اور کارکنوں کا پہناوا تھا اور اب تقریباً ہر نوجوان، چاہے وہ امیر ہو یا غریب سے شوق سے جینز پہنتا ہے۔

لیکن آپ نے کبھی اس پر غور کیا کہ جینز کے سامنے دائیں طرف ، اوپر کی جانب ایک چھوٹی سی اضافی جیب کیوں ہوتی ہے اور اس میں تانبے کے کیل نما بٹن کیوں جڑے ہوتے ہیں ؟

اس چھوٹی سی جیب کو مختلف زمانوں میں مختلف نام دیے جاتے رہے، کبھی اسے فرنٹ پاکٹ کہا گیا، کبھی سکے رکھنے والی جیب کا نام دیا گیا، کبھی یہ ا ماچس رکھنے کی جیب کہلائی اور کبھی اسے ٹکٹ رکھنے والی جیب کہہ کر پکارا گیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جیب بنائی کیوں گئی تھی۔ ڈینم برینڈز ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ آپ کی جینز میں، دائیں طرف سب سے اوپر چھوٹی سی جیب بنیادی طور پر گھڑی رکھنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

لی وائز کمپنی کی تاریخ دان، ٹریسی پینک کہتی ہیں کہ جب کمپنی نے 1879 میں جینز تیار کرنا شروع کیں تو اِسے ویسٹ اوور آل کا نام دیا گیا تھا۔

اس دور کی ابتدائی جینز میں چھوٹی جیب ایک چھوٹی سی جیبی گھڑی رکھنے کے لئے بنائی گئی تھی اور اسے بنیادی طور پر لکڑی اور لوہے کا کا م کرنے والوں، کان کنوں اور ریل کی پٹڑیاں نصب کرنے والے انجنیئرز کے لیے بنایا گیا تھا۔ تاہم وہ بنیادی ڈیزائن آج بھی جینز میں موجود ہے اور اس کی شناخت ہے۔

آج ہم وقت دیکھنے کے لیے زیادہ تر سمارٹ کلائی گھڑیاں اور موبائل فونز استعمال کرتے ہیں اور یہ جیب عموماً خالی رہتی ہے۔

اور اب بات ہو جائے تانبے کے ان کیل نما بٹنوں کی جو جینز میں جڑے ہوتے ہیں ۔

ان بٹنوں کو ان مقامات پر استعمال کیا گیا ہے جہاں پتلون پر دباؤ پڑتا ہے اور ان کے لگانے کا مقصد یہ ہے کہ نہ صرف کپڑا اپنی جگہ سے کھسک نہ جائے بلکہ بٹن بھی اپنے مقام پر موجود رہیں کیونکہ پلاسٹک کے بٹن سخت دباؤ میں ٹوٹ یا ادھڑ کر الگ ہو سکتے ہیں۔

تاہم، معروف ڈیزائنر جیک کیمرون کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان دھاتی بٹنوں کا ڈیزائن تبدیل ہوتا رہا ہے اور اس کے ساتھ دھاتی زِپ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

شروع میں پشت کی جیب پر کمپنی کا لوگو تابنے کے بٹن کے ساتھ چسپاں کیا جاتا تھا، لیکن بعد میں اس کے لیے دوسرے طریقے استعمال کیے جانے لگے۔

نیواڈا کے ایک درزی، جیکب ڈیوس نے 1873 میں پہلی بار تابنے کہ یہ بٹن لیوائز برینڈ کی جینز کر پائیدار بنانے کے لیے استعمال کیے تھے

آج آپ جس برینڈ کی بھی جینز استعمال کرتے ہوں، تابنے کے بٹن اس پر خوش نما دکھائی دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG