رسائی کے لنکس

پاناما لیکس کی تحقیقات حتمی مراحل میں داخل


فیڈرل جوڈیشیل اکیڈمی
فیڈرل جوڈیشیل اکیڈمی

جمعے کو پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مشترکہ ٹحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے پہلے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو دستاویزات 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش کریں گے اس کے بعد اس معاملے سے متعلق مزید شواہد کی ضرورت نہیں ہوگی

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کے بیرون ملک اثاثوں کی تحقیقات کے لیے عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) چھ ہفتوں سے زائد عرصے سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے سامنے وزیر اعظم نواز شریف، ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف اور ان کے بیٹے حسین اور حسن سمیت متعدد افراد پیش ہو چکے ہیں۔

جمعے کو پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مشترکہ ٹحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے پہلے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو دستاویزات 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش کریں گے اس کے بعد اس معاملے سے متعلق مزید شواہد کی ضرورت نہیں ہوگی۔

رحمان ملک نے کہا کہ، "جو میری رپورٹ سپریم کورٹ کے پاس موجود تھی اس کے ایک ایک لفظ کی میں نے تصدیق کی ہے اور میں نے دو اور خط جو میں نے (سابق) صدر رفیق تارڑ کو لکھے تھے وہ بھی پیش کیے ہیں۔"

رحمان ملک نے 1990ء کی دہائی میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی، ایف آئی اے میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر شریف خاندان کے متعلق تحقیقات کی تھیں۔

وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے وکیل پاناما لیکس سے متعلق مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران یہ کہہ چکے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ رحمٰن ملک کی رپورٹ کو مسترد کر چکی ہے اور قانون کی نظر میں اس رپورٹ کی کوئی حثیت نہیں ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے آٹھ مئی کو اپنا کام شروع کیا تھا اور اسے یہ تحقیقاتی عمل مکمل کرنے کے لیے 60 روز کا وقت دیا گیا ہے۔

ایک روز قبل ہی جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ سے کہا کہ وہ ہر صورت 10 جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کریں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے تین رکنی بینچ کو آگاہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شریف خاندان کے اثاثوں سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم نہیں کر رہا ہے۔

اس پر عدالتی بینچ نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاتا تو 'ایف بی آر' کے سربراہ کو عدالت طلب کیا جا سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بینچ کو یقین دلایا کہ تمام دستیاب ریکارڈ ٹیم کو پیش کیا جائے گا۔

تین رکنی بنچ کی ایک گزشتہ سماعت کے دوران بھی تحقیقاتی ٹیم نے مختلف اداروں کی طرف سے مبینہ طور پر تعاون نہ کرنے اور تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی شکایت کی تھی۔ لیکن، ان اداروں نے الزامات کو مسترد کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG