رسائی کے لنکس

logo-print

حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کی عمران، طاہر القادری سے ملاقاتیں


سراج الحق نے کہا ہے کہ مذاکرات کی غرض سے عمران خان اور طاہر القادری کی جانب سے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جب کہ رحمٰن ملک نے کہا کہ ’ڈیڈ لاک ختم ہوگیا ہے، حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ جہاں سے توٹا تھا وہیں سے شروع ہوگا‘

کراچی ۔۔۔۔پاکستان جماعت اسلامی کے امیر، سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت، پی ٹی آئی اور عوامی تحریک اگر کسی ایک معاہدے پر متفق ہوجاتے ہیں تو سیاسی جماعتیں ان کی ضامن بننے کے لئے تیار ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ ’قوم بہت جلد خوش خبری سنے گی‘۔

ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماوٴں نے منگل کی رات عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے ان کے کنٹینرز میں علیحدہ علیحدہ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہی۔ اُن کے ہمراہ مختلف سیاسی جماعتوں کے جرگے کے اراکین بھی تھے جن میں لیاقت بلوچ، حاصل بزنجو، کلثوم پروین اور ڈی جی جمال شامل تھے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی غرض سے عمران خان اور طاہر القادری کی جانب سے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان کمیٹیوں سے سیاسی جماعتوں کے جرگے کی ملاقات ہوئی۔

مذاکرات کا پہلا راوٴنڈپی ٹی آئی کی کمیٹی سے ہوگا، بعد میں ڈاکٹر طاہر القادری کی تشکیل کردہ کمیٹی سے مذاکرات ہوں گے۔ پھر حکومت کو مذاکرات کی ٹیبل پر لایا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان باقاعدہ ایک معاہدہ طے پائے گا جو خفیہ نہیں بلکہ میڈیا کے سامنے ہوگا۔ اگر دونوں فریق ایک معاہدے پر متفق ہوجاتے ہیں تو سیاسی جماعتیں ان کی ضامن بننے کے لئے تیار ہیں۔

سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات ہی ہر مسئلے کا حل ہیں، یہاں تک کہ جنگ عظیم میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے، لیکن ان جنگوں کا فیصلہ بالآخر مذاکرات سے ہی نکلا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شروع ہی سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ دونوں فریق میں جلد مذاکرات طے پاجائیں اور پاکستان کے 18کروڑ عوام کو خوش خبری ملے۔

اس سے قبل، رحمٰن ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مشترکہ اپوزیشن کے نمائندوں کے طور پر دھرنہ دینے والی پارٹیوں کے سربراہان سے مذاکرات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ مذاکراتی کمیٹی کو اس بات کی خوشی ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان دونوں کی طرف سے مثبت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ڈیڈ لاک ختم ہوگیا ہے، حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ جہاں سے توٹا تھا وہیں سے بات شروع ہوگی‘۔

XS
SM
MD
LG