رسائی کے لنکس

logo-print

مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام، مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے نیا خطرہ


صدر ٹرمپ کے اسرائیل کے دورے کے موقع پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے مظاہرے۔ 29 جنوری 2020

یکم جولائی کی تاریخ جوں جوں قریب آ رہی ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق، فلسطینی علاقوں اور بعض عرب ملکوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لئے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ اس دن مغربی کنارے کے تقریباً تیس فیصد حصے کو ضم کر لیا جائے گا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر اس فیصلے پر عمل درآمد ہو گیا تو یہ اردن کے شاہ عبداللہ کے لئے ان کی 21 سالہ حکمرانی کے دوران ایک کڑا امتحان ہو گا۔

اردن، علاقے میں اسرائیل کا امن کے حوالے سے اہم شریک کار ہے اور اس قسم کے اسرائیلی اقدام سے اردنی آبادی میں ایک پرتشدد ردعمل کا امکان ہے اور یہ دو ریاستوں کے حل کے منصوبے کے خاتمے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ بھی اس منصوے کے بڑے حامی رہے ہیں تاکہ عشروں سے جاری اسرائیلی فلسطینی تنازع کے حل کو کسی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

جہاں تک خود فلسطینیوں کا تعلق ہے، انھوں نے اسرائیلی منصوبے کی سخت مذمت کی ہے اور بین الااقوامی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف تعزیرات عائد کرے اور فلسطین کو دو طرفہ بنیاد پر ایک ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لے۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان میں اسرائیلی نوآبادیاں اور وہ علاقے شامل ہیں جن میں بیشتر فلسطینی آباد ہیں۔

اردن کے ایک تجزیہ کار اسامہ الشریف کا کہنا ہے کہ، بقول ان کے، اسرائیل کی یونیٹی کابینہ کے ارکان، معاشرے کے بعض طبقے، حتی کہ بعض یہودی آبادکار اور سابق جنرل اور سیکیورٹی کے عہدیداروں نے انتباہ کیا ہے کہ اس فیصلے کی اسرائیل کو سیاسی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے اور طویل المدت معیاد پر اس کی سلامتی کو بھی اندیشے لاحق ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ مہینے اردن کے شاہ عبداللہ نے جرمنی کے ایک رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے انضمام کے منصوبے پر عمل درآمد کیا تو اس سے اردن کے ساتھ وسیع پیمانے پر تنازع پیدا ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہم ہر قسم کے متبادلات پر غور کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں بروکنگز انسٹی ٹیویشن کے سنیئر فیلو بروس رائیڈل کا خیال ہے کہ ان میں اسرائیل کے ساتھ اردن کے 1994 کے امن سمجھوتے اور اس کے ساتھ ہی قدرتی گیس کے دس ارب ڈالر کے معاہدے کا خاتمہ شامل ہو سکتاہے، جو پہلے ہی غیر مقبول ہے۔

عمان سے وائس آف امریکہ کے لئے ڈیل گیولاک نے اطلاع دی ہے کہ اسی دوران اردن انضمام کے فیصلے کے ردعمل میں بڑے پیمانے پر سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس معاملے میں بین الاقوامی دباؤ بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ جرمنی نے اسرائیل کے مجوزہ انضمام کو بین الاقوامی قانون کے برعکس قرار دیا ہے اور اسے ترجیحی بنیاد پر روکنے کے لئے کہا ہے۔ واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف الاوطیبہ نے انتباہ کیا ہے کہ اسرائیلی کاروائی سے عرب دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے اس کی خواہشیں پاش پاش ہو جائیں گی۔

تجزیہ کار اسامہ الشریف کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ اپنے بیان میں نرمی اس لئے برت رہے ہیں کہ فی الوقت وہ اس مسئلے پر خود اسرائیل کے اندر بحث کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انھوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ اردن، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، سبھوں نے اس معاملے میں علاقے کے استحکام پر اس کے سنگین نتائج کے بارے میں، مختلف انداز میں اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اردن اور دوسری عرب ریاستوں کا خیال ہے کہ انضمام کی اسرائیلی کاروائی سے مستقبل میں ایک پائیدار فلسطینی ریاست کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا اور نتیجے میں فلسطینیوں کی جانب سے تشدد بھڑک اٹھنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔

ماہرین انتباہ کرتے ہیں کہ موجودہ کشیدگی کسی بھی وقت علاقے میں تشدد اور شدید عدم استحکام کو دعوت دینے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے امن تہہ وبالا ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG