رسائی کے لنکس

مغربی کنارے کے انضمام پر فلسطینیوں اور حماس کے شدید ردِ عمل کا خدشہ


صدر ٹرمپ کے مشرق وسطی امن منصوبے کے خلاف غزہ میں فلسطینیوں کا احتجاج۔ 27 جنوری 2020

آنے والے ہفتوں میں اسرائیل اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو اپنے ساتھ ملانے کی تیاری کر رہا ہے جس سے اسرائیل فلسطینی امن معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی کے سلسلے میں ہر قسم کا تعاون روک دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج یکم جولائی سے قبل ہی بہت زیادہ چوکس ہو گئی ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد ہو گا۔

مغربی کنارے کے شہر رملہ سے فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے اس اقدام کے جواب میں حال ہی میں ایک ڈرامائی اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی تنظمِ آزادی اور فلسطین کی ریاست امریکہ اور اسرائیل کی حکومتوں کے ساتھ ان تمام معاہدوں اور ذمہ داریوں سے اب مبرا ہو گی ہے جن کی بنیاد افہام و تفہیم پر رکھی گئی تھی اور جن میں سیکیورٹی کا معاملہ بھی شامل تھا۔

یاد رہے کہ جنوری کے مہینے میں صدر ٹرمپ نے جس امن منصوبے کا اعلان کیا تھا اسے فلسطینی پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔ اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یک طرفہ طور پر انضمام کی کاروائی امن کے عمل کے لئے نہایت سنگین چیلنج ہے۔

تجزیہ کار اس صورت حال کو بڑی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک فلسطینی مبصر سیم باہور کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا اقدام (جس کی لاٹھی اس کی بھینس) کے سیاسی تصور کو گویا شرف قبولیت بخشتا ہے یعنی اگر ہمارے پاس فوجی طاقت ہے تو ہم کسی بھی بات کو زور زبردستی سے منوا سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب سے اس بات کا اشارہ ہے کہ انھوں نے فلسطینیوں کے ساتھ کسی تنازع کے حل کے لئے دو طرفہ مذاکرات کا ارادہ ختم کر دیا ہے، جس کا بنیادی طور پر یہ مطلب ہے کہ دو ریاست کے حل کا دروازہ بند کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران یورپی یونین اور دوسرے بین الااقوامی اداروں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انضمام کی کسی کاروائی کے نتیجے میں اسرائیل کو اس کی بھاری سفارتی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے لئے یورپی یونین کے نمائندے برگس ڈورف کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الااقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور یوروپی یونین کی کونسل کے فیصلوں سے مطابقت نہیں رکھتا

یروشلم سے وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار لنڈا گریٹسٹین نے یاد دلایا ہے کہ وادی اردن کا علاقہ جسے اسرائیل ضم کرنا چاہتا ہے وہ پہلے ہی اسرائیل کے سیکیورٹی کنڑول میں ہے۔ تاہم بعض اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق انضمام کی کاروائی میں خود اہم سیاسی پیغام مضمر ہے۔

اس سے یہ مقصود ہے کہ اردن کے لوگوں اور فلسطینیوں سمیت تمام دوسرے لوگوں کو باور کرایا جائے کہ یہ ایک اسرائیلی خود مختار علاقہ ہے اور اس پر قبضہ محض عارضی نوعیت کا نہیں ہے۔

بہرحال اس منظر نامے میں بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انضمام کے نتیجے میں اسرائیل پر فلسطینیی حملوں کی ایک لہر بھڑک سکتی ہے، جو پہلی اور دوسری انتفادہ تحریک کے مماثل ہو سکتی ہے جن میں سینکڑوں فلسطینی اور اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک اسرائیلی تجزیہ کار شول اریلی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی اقدام حماس کی تحریک کو اپنی کاروائیوں میں تیزی پیدا کرنے کے لئے بھی ایک اچھا پلیٹ فارم مہیا کر سکتا ہے۔

یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں پیدا ہو رہی ہے، جب اب سے چند ہی مہینے بعد امریکہ میں صدارتی انتخاب ہونے والا ہے اور مبصرین کے مطابق اس بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ معاملے کی نزاکت سیاسی اعتبار سے اس الیکشن پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے؟

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG