رسائی کے لنکس

جہاں رنگ: نا اہلی کے فیصلے پر ہونے والی بحث اور تجزیہ کاروں کی رائے

  • بہجت جیلانی

ایک سوال کے جواب میں، بریگیڈئر عمران ملک نے کہا ہے کہ ’’موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ایک مناسب فیصلہ ہے اور پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے ہم پاکستان کی مسلح افواج کی ایمانداری کو شک و شبہ کی نظر سے نہیں دیکھ سکتے‘‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل پینل کی طرف سے میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے نا اہل قرار دئے جانے کے فیصلے کے بعد قانونی، سماجی حلقوں اور عوامی حلقوں میں ایک نہ رکنے والی بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں، پیر کے روز ’وائس آف امریکہ‘ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بارے میں مختلف تجزیہ کاروں کی رائے لی۔ سابقہ یونیورسٹی لاء پروفیسر یاسمین علی نے اس فیصلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے رجحان کے بارے میں بات کی اور کہا کہ چونکہ اس قانونی فیصلے کی کئی جہتیں ہیں، اسلئے عام لوگ اس کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ 20 اپریل کو جاری ہونے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کا تسلسل ہے اور یہ قومی احتساب بیورو کی تحقیقات کے بعد تکمیل کو پہنچے گا۔

بیرسٹر امجد ملک کا خیال ہے کہ ’’اس فیصلے سے مستقبل میں سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر الیکشن کمشن سے کہا جاتا کہ وہ اقامہ اور اس سے متعلقہ اُمور کے بارے میں فیصلہ جاری کرے تو بہتر ہوتا‘‘۔

بریگیڈئر عمران ملک نے، اس سوال کے جواب میں کہ اس فیصلے کے پس منظر میں کیا فوج کا کوئی کردار ہو سکتا ہے، کہا کہ ہم سب سازشی نوعیت کے نظریات میں یقین رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ایک مناسب فیصلہ ہے اور پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے ہم پاکستان کی مسلح افواج کی ایمانداری کو شک و شبہ کی نظر سے نہیں دیکھ سکتے‘‘۔

تفصیل کے لیے، منسلک آڈیو سنئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG