رسائی کے لنکس

تجزیہ کار اکرم سہگل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے تحفظات کا اظہار کریں۔ تاہم، بقول اُن کے،’’اُن کی جماعت کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کوئی مثبت اقدام نہیں ہے‘‘

معروف تجزیہ کار اکرام سہگل نے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کچھ ایسی تفصیلات پیش کی ہیں جن سے وزیر اعظم نواز شریف اور اُن کے اہل خانہ کیلئے شدید نوعیت کے چیلنج پیدا ہو سکتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر سکیں۔ تاہم، بقول اُن کے، اُن کی جماعت کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کوئی مثبت اقدام نہیں ہے۔

ایک اور تجزیہ کار، پروفیسر اے زیڈ ہلالی کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دفاعی انداز اختیار کر لیا ہے، یہ صورت حال کسی سیاسی بحران کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوگی۔

پروفیسر ہلالی کے مطابق، ’’یہ خوش آئیند بات ہے کہ کوئی بھی شخص جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کے حق میں نہیں ہے‘‘۔

سابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر، قاضی محمد انور کا کہنا ہے کہ ’’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے اور سپریم کورٹ دونوں فریقین کے تحفظات اور بحث سننے کے بعد ہی اپنا فیصلہ سنائے گی‘‘۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’اگر سپریم کورٹ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو تسلیم کر لیتی ہے، تو یہ کیس قومی احتساب بیورو کے سپرد کر دیا جائے گا‘‘۔

تفصیل کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ سنئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG