رسائی کے لنکس

سیاسی 'بے یقینی' کے اسٹاک مارکیٹ پر شدید منفی اثرات


فائل فوٹو

منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر ہی شدید مندی کا رجحان رہا اور کاروبار میں 2100 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

پاکستان کے حکمران خاندان کے اثاثوں سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد بازارِ حصص (اسٹاک مارکیٹ) کے کاروبار پر منفی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر ہی شدید مندی کا رجحان رہا اور کاروبار میں 2100 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق 100 انڈیکس 44232 پوائنٹس سے بھی نیچے آ جانے کے بعد سرمایہ کاروں کے تقریباً 425 ارب روپے ڈوب گئے ہیں۔

سرمایہ کاری کے امور کے ماہر مزمل اسلم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بے یقینی کا اثر اسٹاک مارکیٹ پر بھی ہوا ہے اور اگر معاملات سیاسی تصادم کی طرف جاتے ہیں تو مارکیٹ میں منفی رجحان رہے گا۔

'جے آئی ٹی' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے طرز زندگی اور معلوم آمدن میں بہت تفاوت ہے۔

حکومت نے رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جب کہ حزب مخالف کی طرف سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبات میں تیزی آگئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG