رسائی کے لنکس

logo-print

'2013ء کے مقابلے میں 2018ء کے انتخابات زیادہ شفاف تھے'


جماعت اسلامی کے کارکنان 11 مئی 2013ء کو ہونے والے عام انتخابات کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں (فائل)

مخالف جماعتیں انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگا کر تحریک چلانے کے عزم کا اظہار کر رہی ہیں؛ ساتھ ہی فریقین وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے دعوے بھی کر رہے ہیں

پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو اگر ایک جانب پاکستان تحریک انصاف شفاف قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب اس کی مخالف جماعتیں انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگا کر تحریک چلانے کے عزم کا اظہار کر رہی ہیں؛ جبکہ فریقین وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کے دعوے بھی کر رہے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام جہاں رنگ میں ’فافن‘ کے سربراہ سرور باری، مسلم لیگ نون کی رہنما سائرہ افضل تارڑ اور پی ٹی آئی کے شوکت یوسفزئی نے اپنا اپنا مؤقف بتایا۔

سرور باری نے کہا ہے کہ ان کے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مانیٹرز کے مطابق 2018ء کے انتخابات 2013ء کے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ شفاف تھے۔ سائرہ تارڑ اس سے متفق نہ تھیں۔ سرور باری کا کہنا تھا کہ (آڈیو رپورٹ سنئیے):

please wait

No media source currently available

0:00 0:03:48 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG