رسائی کے لنکس

logo-print

فوج اور عدلیہ کے خلاف الزام لگانا قابل مواخذہ: تجزیہ کار


اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ اس دور میں ISI پوری طرح عدالتی معاملات میں جوڑتوڑ میں ملوث ہے۔ راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے جسٹس صدیقی نے کہا ہے کہ’’ISI اپنی مرضی کے بینچ بنواتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کرکے کہا کہ نواز شریف اور مریم کو انتخاب سے قبل باہر نہیں آنے دینا ہے‘‘۔

اس بارے میں ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں ایک سابقہ جج جسٹس ناصرہ اقبال اورISI کے ایک سابقہ افسر، ریٹائرڈ بریگیڈیر حامد سعید نے گفتگو کی۔

حامد سعید کا کہنا تھا کہ ملک کے دو اداروں فوج اور عدلیہ کو آئین کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور انکے خلاف کوئی بھی بےبنیاد الزام لگانا قابل مواخذہ ہے۔ اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر عدلیہ کے خلاف کوئی ایسی بات کرے تو اسے توہین عدالت کی سزا دی جاتی ہے، تو فوج کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی پر محاسبہ کیوں نہیں کیا جا رہا۔

جسٹس ناصرہ اقبال کا کہنا تھا کہ جو کچھ جسٹس صدیقی نے کہا وہ judicial code of conduct کی خلاف ورزی ہے اور ایک sitting judge کے لئے اس طرح کا بیان دینا قطعی نا مناسب ہے خاص طور سے ایک ایسے وقت میں جبکہ خود انکے خلاف سپریم جوڈیشیل کیس میں مقدمہ چل رہا ہے۔

بریگیڈیر حامد سعید کا کہنا تھا کہ:

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:40 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG