رسائی کے لنکس

ناراض بلوچوں سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں: سرفراز بگٹی


سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ’’اصولی طور پر، جو مسئلہ بات چیت سے حل ہوسکتا ہے اسے بات چیت سے ہی حل ہونا چاہئے۔ اس لئے، حکومت بلوچستان اور ریاست پاکستان دونوں کے دروازے ہر وقت ناراض بلوچوں سے بات چیت کے لئے کھلے ہیں‘‘

بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ناراض بلوچوں کو ایک بار پھر پیشکش کی ہےکہ وہ پہاڑوں سے اتر آئیں؛ ان کی بحالی کے لئے حکومت تمام اقدامات کرے گی تاہم اگر انھوں نے ریاست کی حاکمیت تسلیم نہ کی تو ان سے اہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

صوبائی وزیر داخلہ نے وائس آف امریکہ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں میزبان اسد حسن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ’’ریڈیو وائس آف امریکہ پاکستان میں بہت زیادہ سنا جاتا ہے۔ یہ پروگرام پہاڑوں میں بیٹھے ہوئے بلوچ بھی سنتے ہیں اس لئے وہ براہ راست ان سے مخاطب ہیں‘‘۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ اصولی طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ ’’جو مسئلہ بات چیت سے حل ہوسکتا ہے اسے بات چیت سے ہی حل ہونا چاہئے۔ اس لئے، حکومت بلوچستان اور ریاست پاکستان دونوں کے دروازے ہر وقت ناراض بلوچ سے بات چیت کے لئے کھلے ہیں‘‘۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’یہ بات چیت ہی کا نتیجہ ہے کہ ناراض بلوچوں کی دوسری سطح کی تمام قیادت یہ حقیقت تسلیم کرنے کے بعد کہ ان کے نام نہاد لیڈر خود تو یورپ میں پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں اور یہاں عام بلوچوں کو ہتھیار تھما کر قتل و غارت پر لگادیا گیا ہے اور ان کے خون کو بیچا جاتا ہے۔ وہ واپس آرہے ہیں‘‘۔

انھوں نے دعوی کیا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ناراض بلوچ جوق درجوق حکومت سے رابطہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب ان کی حکومت اقتدار میں آئی تھی تو یہ عناصر بلوچستان کے شہروں میں ٹارگٹ کلنگ کیا کرتے تھے۔ لیکن حکومت کی حکمت عملی کے نتجے میں وہ پہلے قصبوں تک محدود ہوئے اور پھر انھیں پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور کردیا گیا؛ اور اب انھیں قومی دھارے میں واپس لایا جا رہا ہے‘‘۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’’یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی ریاست کی حاکمیت کو ہی تسلیم نہ کرے اور پھر اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نہ نمٹا جائے۔ لیکن، جو لوگ ریڈیو پر ان کی گفتگو سن رہے ہیں ان سے کہتا ہوں کہ وہ ائیں میں ان کی بحالی کے انتظامات کروں گا۔‘‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’جن لوگوں نے تشدد کی راہ اپنائی اور بھارتی ایجنسی را کی مدد سے ملک کو توڑنے کے لئے بلوچستان میں انارکی پھیلانے کی کوشش کی اللہ کے فضل سے وہ لوگ ناکام ہوچکے ہیں؛ اور اب انھوں نے یورپ میں اشتہاری مہم شروع کرنے کا ایک نیا طریقہ اپنایا ہے۔ لیکن، اس سے بلوچستان کے عوام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اور نہ ہی حکومت کو اس تشہری مہم کی کوئی پرواہ ہے‘‘۔

اسی پروگرام میں تجزیہ نگار بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ یورپ میں بلوچستان پر تشہری مہم کے ذریعے یہ عناصر عالمی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس مہم کے نتیجے میں پاکستان مخالف عناصر مل کر پاکستان کے لئے عالمی سطح پر مسئلہ کھڑا کرسکتے ہیں۔ اس لئے، حکومت پاکستان کا اس حوالے سے سویزرلینڈ حکومت سے احتجاج بہت ضروری تھا‘‘۔

سرفراز بگٹی کی وائس آف امریکہ سے بات چیت سننے کے لئے درج ذیل لنک کلک کیجئے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG