رسائی کے لنکس

بلو چستان: فرقہ وارانہ دہشت گردی میں چار افراد ہلاک


واقعہ کے خلاف شیعہ برادری کی مختلف تنظیموں نے پیر کو یوم سوگ منانے اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان میں اتوار کی شام فرقہ ورانہ دہشت گردی کے ایک تازہ واقعہ میں چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق افغانستان سے آنے والے شیعہ ہزارہ بر ادری کے لوگ ایک گاڑی میں چمن سے کو ئٹہ آرہے تھے۔

ضلع کوئٹہ کے علاقے جلوگیر کے مقام پر گاڑی پٹرول بھرنے کےلئے روک دی گئی، اس دوران مو ٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد وہاں پہنچے اور گاڑی میں بیٹھے مردوں کو اُتار کر اُن پر گو لیاں چلائیں جس سے تمام چھ افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے تین نے موقع پر اور ایک نے اسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیا۔

دو زخمیوں کو ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کردیا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے جائے وقوع سے شواہد اکھٹے کر نے کے بعد ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق گاڑی میں دو خواتین بھی بیٹھی ہوئی تھیں جن کو چھوڑ دیا گیا۔

واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ءاللہ زہری نے واقعہ کی مذمت اور پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔

واقعہ کے خلاف شیعہ برادری کی مختلف تنظیموں نے پیر کو یوم سوگ منانے اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ جولائی کے تیسرے ہفتے میں بھی کو ئٹہ سے کراچی جانے والے ایک ہی خاندان کے ایک خاتون سمیت چار افراد کو مستونگ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اُس سے پہلے کو ئٹہ کے مختلف علاقوں میں شیعہ ہزار ہ برادری کے لوگوں پر خودکش حملوں کے ساتھ اُنھیں کئی بار ٹارگٹ کیلنگ کے ذریعے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

شیعہ ہزار ہ برادری پر ہونے والے بیشتر حملوں کی ذمہ داری داعش سے وابستہ گروپس قبول کر تی رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG