رسائی کے لنکس

برٹنی اسپیئرز نے قانونی جنگ جیت لی، عدالت کا والد کی سرپرستی معطل کرنے کا حکم


فائل فوٹو

امریکہ کی معروف پاپ گلوکارہ برٹنی اسپیئرز نے بالآخر طویل قانونی جنگ جیت لی ہے۔ عدالت نے ان کے والد کی 13 سالہ قانونی سرپرستی معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے برٹنی اسپیئرز کی ذاتی اور فنی زندگی میں والد کی 13 سال سے جاری قانونی سرپرستی معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ خوش گوار ماحول کی عکاسی نہیں کرتا۔

امریکی شہر لاس اینجلس کی اعلیٰ عدالت کی جج برینڈا پینی نے گلوکارہ برٹنی اسپیئرز اور ان کی وکیل کی درخواست پر حکم دیا کہ جیمز اسپیئرز کو کنزرویٹر کی حیثیت سے اپنا کردار ترک کرنے کی ضرورت ہے۔

عدالت کا برٹنی اسپیئرز کے والد کی قانونی سر پرستی ختم کرنے کا فیصلہ ان چند ماہ کے دوران ہی سامنے آیا ہے جب اگست میں گلوکارہ نے اپنی زندگی پر والد کا کنٹرول ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

سال 2008 میں برٹنی اسپیئرز ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوئی تھیں اور اس دوران عدالت نے جیمز اسپیئرز کو ان کے لیے نگران مقرر کیا تھا اور وہ تب سے اُن کی آمدنی اور دیگر اُمور کی نگرانی کر رہے ہیں۔

امریکہ میں کنزرویٹر شپ قانون کے مطابق کسی بھی شخص کی عمر یا ذہنی پختگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے عدالت نگران مقرر کرتی ہے جو اس کی ذاتی زندگی کے معاملات اور اخراجات کی نگرانی کرتا ہے۔

برٹنی اسپیئرز نے رواں برس اگست میں عدالت سے والد کی سرپرستی ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ 12 برسوں سے ان کے والد اُن کی ذاتی اور فنی زندگی کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہو رہے تھے اور اب وہ ایسا نہیں چاہتیں۔

برٹنی کا کہنا تھا کہ وہ اب مزید غلامی برداشت نہیں کر سکتیں۔

بدھ کو ہونے والی سماعت میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ ایک نا خوش گوار ماحول کی عکاسی کر رہا ہے جس کے لیے جیمز اسپیئرز کی معطلی کی ضرورت ہے۔

سماعت کے دوران گلوکارہ برٹنی اسپیئرز موجود نہیں تھیں جب کہ ان کے والد جیمز اسپیئر آن لائن موجود تھے۔ البتہ انہوں نے کارروائی کے دوران کوئی بات نہیں کی۔

سن 2008 میں برٹنی اسپیئرز ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوئی تھیں اور اس دوران عدالت نے جیمز اسپیئرز کو ان کے لیے نگران مقرر کیا تھا۔
سن 2008 میں برٹنی اسپیئرز ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوئی تھیں اور اس دوران عدالت نے جیمز اسپیئرز کو ان کے لیے نگران مقرر کیا تھا۔

گلوکارہ کے وکیل میتھیو زوزنگارٹ نے اس بات ہر اتفاق کیا کہ کنزرویٹر شپ ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے عدالت میں جمع کرائی گئیں دستاویزات میں کہا ہے کہ جیمز اسپیئرز کی معطلی برٹنی پر مسلط کردہ ڈراؤنے خواب کو ختم کرنے کے لیے ضروری قدم ہے۔

'ہم اس وقت تاریخ رقم کر رہے ہیں'

طویل ترین قانونی جنگ جیتنے اور عدالت کے حکم پر برٹنی اسپیئرز کے مداحوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق برٹنی اسپیئرز کے مقدمے کی سماعت کے لیے امریکہ کی ریاست ہوائی سے لاس اینجلس آنے والی ان کی مداح لورین سسکو نے کہا کہ میرا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا ہے۔

ان کے بقول وہ گزشتہ ایک برس سے ہر کارروائی کے موقع پر عدالت میں موجود ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بے حد پُر جوش ہوں کہ برٹنی اب اپنی باقی کی زندگی کیسے گزاریں گی۔

برٹنی اسپیئرز کے معاملے پر سماعت سے چند گھنٹے قبل کورٹ کے باہر مرکزی شاہراہ کو گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ جب کہ گلوکارہ کے حامیوں کو ریلی نکالنے کی اجازت دی گئی تھی جہاں انہوں نے برٹنی کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔

ایک اور مداح مارتینو اوڈھ کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم ایک پاپ اسٹار کی زندگی بدل سکتے ہیں جو گزشتہ 13 برس سے اپنے حقوق سے محروم ہیں۔

عدالت نے اگلی سماعت 12 نومبر کو مقرر کی ہے جس میں برٹنی اسپیئرز کی والد کی قانونی سرپرستی ختم کرنے کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG