رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ایک بار پھر 'لانگ مارچ' کی بازگشت


مولانا فضل الرحمن حکومت کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے الٹی میٹم دیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اگست تک مستعفی ہو جائے ورنہ اکتوبر میں اسلام آباد کی جانب 'آزادی مارچ' ہو گا۔

مولانا فضل الرحمن گزشتہ سال 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد سے لے کر اب تک حکومت کے خلاف جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکمت عملی ان سے مختلف رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے اتوار کو کوئٹہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں جعلی مینڈیٹ والی حکومت مسلط کر دی ہے۔

ان کے بقول پاکستان کو افغانستان نہیں بننے دیا جائے گا۔ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اس حکومت کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
مولانا فضل الرحمن جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟

مئی 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کامیابی ہوئی تھی جس کے بعد نواز شریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وقتی طور پر تو انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا تھا تاہم انتخابات کے ایک سال بعد انہوں نے احتجاجی تحریک شروع کر دی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے پاس قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں دھاندلی کے شواہد موجود ہیں، لہذٰا ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں۔

عمران خان نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اگست 2014 میں آزادی مارچ کا اعلان کیا۔ یہ لاہور سے اسلام آباد تک بذریعہ جی ٹی روڈ ایک احتجاجی ریلی تھی جس میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں انقلاب مارچ بھی شامل ہو گیا تھا۔

تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر 126 دن تک دھرنا بھی دیا تھا۔

نواز شریف کی حکومت کے خلاف 2014 کے احتجاج میں مظاہرین نے 126 دن تک دھرنا دیا تھا۔ (فائل فوٹو)
نواز شریف کی حکومت کے خلاف 2014 کے احتجاج میں مظاہرین نے 126 دن تک دھرنا دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

'مولانا اسلام آباد میں بڑا سیاسی شو کر سکتے ہیں'

سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم کہتے ہیں کہ بلاشبہ مولانا فضل الرحمن کے پاس بڑی افرادی قوت موجود ہے۔ مولانا نے حال ہی میں بڑے جلسوں کے ذریعے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ بظاہر مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ عمران خان سے ملتا جلتا ہو گا لیکن فرق یہ ہے کہ عمران خان کو دھرنا دینے کی اجازت دی گئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔

امتیاز عالم کے بقول پاکستان میں عمومی طور پر انتظامیہ اور پولیس علما پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہے۔ جس کی وجہ ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے جوشیلے کارکن ہیں۔

عمران خان اور طاہر القادری 2014 میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران(فائل فوٹو)
عمران خان اور طاہر القادری 2014 میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران(فائل فوٹو)

کیا مولانا مذہب کارڈ استعمال کر رہے ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق مولانا فضل الرحمن بنیادی طور پر ایک مذہبی جماعت کے رہنما ہیں، جس کا مقصد ملک میں نطام شریعت کا نفاذ ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا اب خود کو ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر منوانا چاہتے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی مولانا کے مذہبی اثر و رسوخ کو استعمال کر رہی ہیں۔

رسول بخش رئیس کے بقول مولانا کی جماعت کے پاس افرادی قوت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ احتجاجی تحریکیں عوام کی شمولیت سے ہی کامیاب ہوتی ہیں۔

رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کا آزادی مارچ ایک مقصد کے حصول کے لیے تھا۔ وہ مقصد انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام تھا لیکن موجودہ اپوزیشن کے پاس احتجاج کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں ہے۔

ان کے بقول عمران خان پہلے دن ہی یہ پیشکش کر چکے ہیں کہ وہ کوئی بھی حلقہ کھولنے کو تیار ہیں۔ پارلیمانی کمیشن بنانے کے لیے بھی حکومت تیار ہے۔ بظاہر نہیں لگتا کہ یہ مارچ حکومت کے لیے کسی خطرے کا سبب بن سکے گا۔

سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی اس احتجاج میں شامل ہوں گی، لیکن مرکزی قیادت مولانا فضل الرحمن کے پاس ہی ہو گی۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومت پر بہرحال اس احتجاج کا اثر ضرور پڑے گا، اپوزیشن سے متعلق عمران خان کا جو سخت بیانیہ ہے اس میں نرمی بھی آ سکتی ہے۔

'مولانا، الطاف حسین بننے کی کوشش نہ کریں'

مولانا فضل الرحمن کے اعلان پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا انداز گفتگو سیاسی رہنماؤں جیسا نہیں ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن الطاف حسین بننے کی کوشش نہ کریں ورنہ انہیں لیبیا جانا پڑ سکتا ہے جہاں کی زندگی پاکستان کے مقابلے میں قطعی طور پر آرام دہ نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا اعلان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل

مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت مخالف مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمن کے اعلان کے بعد تاحال مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG