رسائی کے لنکس

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ، پاکستان تحریک انصاف میں ضم ہو گیا


جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے صدر خسرو بختیار اپنے گروپ کو پاکستان تحریک انصاف میں ضم کرنے کے موقع پرعمران خان کے ساتھ ۔ 9 مئی 2018

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے صدر خسرو بختیار نے کہا ہے کہ وہ اس وعدے پر تحریک انصاف میں ضم ہوئے ہیں کہ پارٹی اپنے منشور میں جنوبی پنجاب میں ایک نئے صوبے کے قیام کو شامل کرے گی۔

اکستان مسلم لیگ (ن) سے الگ ہوکر بننے والے نئے سیاسی دھڑےجنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا تحریک انصاف کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ تحریک پی ٹی آئی میں انتخابات کے انعقاد تک ضم ہوگئی ہے۔

اسلام آباد میں مقامی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے راہنماؤں نے تحریک انصاف کے ساتھ انضمام کا اعلان کیا۔

جنوبی پنجاب محاذ کی قیادت نے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے دن میں ملاقات کی جس میں بلخ شیر مزاری، خسرو بختیار، نصراللہ دریشک اور طاہر بشیر چیمہ کے علاوہ جہانگیر ترین اور فواد چوہدری بھی موجود تھے۔

اس موقع پر عمران خان نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ ملاقات کے دوران تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے راہنماؤں کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پایا جس میں عمران خان، میر بلخ شیر مزاری، خسرو بختیار اور طاہر بشیر چیمہ کے دستخط ہیں۔

تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ یادداشت کے تحت دونوں جماعتوں میں بہتر گورننس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لئے انتظامی بنیادوں پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔

عمران خان جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے راہنماؤں کے ساتھ۔ 9 مئی 2018
عمران خان جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے راہنماؤں کے ساتھ۔ 9 مئی 2018

یاداشت کے مطابق تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے اراکین پی ٹی آئی کے پرچم تلے نئے صوبے کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے کی صورت میں تحریک انصاف پہلے سو دن کے اندر صوبے کے قیام کے لئے عملی اقدامات کرے گی۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرے گا جب کہ پی ٹی آئی کی طرف سے جنوبی پنجاب اتحاد کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

معاہدے کے نکات کے مطابق جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ کمیٹی کا چیئرمین اور سیکرٹری بھی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) سے الگ ہوکر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی جدوجہد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اس سیاسی دھڑے کے الگ ہونے کے حوالے سے مختلف الزامات عائد کیے جارہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کو نقصان پہنچانے کے لیے نا دیدہ قوتوں کی جانب سے ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ (ن) لیگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ وہ ارکان ہیں جو گذشتہ پانچ سال تک وزارتوں اور حکومت کے مزے لوٹتے رہے اور آخری دو ماہ میں جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا نام لے کر الگ سیاسی دھڑا بنا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG