رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی پنجاب، نئے صوبے اور ’سٹیٹسکو‘


فائل

پاکستان کے اندر نئے صوبوں کی تشکیل بالعموم اور جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بات بالخصوص شہہ سرخیوں میں ہے۔ علاقے سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین پارلیمنٹ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے نیا اتحاد بنا چکے ہیں، جو تجزیہ کاروں کے نزدیک نہ صرف کامیاب ہو سکتا ہے، بلکہ آئندہ متوقع معلق پارلیمنٹ میں حکومت سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، پنجاب میں ووٹ بنک رکھنے والے تین بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنمائوں نے تسلیم کیا کہ صوبے کی آبادی اور وسائل کی مناسب تقسیم کے لیے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی سردار امجد فاروق خان کھوسہ نے کہا کہ ان کی پارٹی پہلے ہی پنجاب اسمبلی میں پنجاب کے اندر سے ایک نہیں دو صوبوں، جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی منظوری دے چکی ہے۔ اور، تمام سیاسی جماعتوں کو کمشن تشکیل دے کر پرانے مطالبے کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ ان کے بقول، نیا محاذ سیاسی ڈرامے کے سوا کچھ نہیں کہ وہ انتخابات میں جانے سے پہلے کوئی مسئلہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے راہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے وی اے او سے گفتگو میں کہا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ عوامی امنگوں کے مطابق ہے اور پی ٹی آئی اس کی تائید کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ممکن ہے کہ اس مطالبے کے ساتھ الیکشن میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جے پی ایس ایم کے ساتھ انتخابات سے قبل کوئی ڈیل نہیں کر رہی۔ تاہم، انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے الائنس بن سکتا ہے۔

ملکی سیاست، بالخصوص جنوبی پنجاب کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور کالم نگار خالد مسعود خان نے تائید کی کہ اگرچہ انتخابات کے دنوں میں بننے والا اتحاد ایک سیاسی چال کے سوا کچھ نہیں، لیکن ایسے میں جب تمام بڑی سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر اصولی اتفاق کر چکی ہیں، ممکن ہے کہ تمام پارٹیاں اپنے منشور میں اس حوالے سے وعدے وعید شامل کریں۔ ان کے بقول ’’یہ طے ہے کہ صوبہ بن کر رہے گا اور اس کا راستہ زیادہ دیر روکا نہیں جا سکتا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنوبی پنجاب صوبہ بن گیا تو پھر باقی جگہوں سے نئے صوبوں کے مطالبے میں جان پڑی جائے گی۔

سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ کراچی اور شہری علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کا مدت سے مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔ اسی طرح ہزارہ صوبہ کے لیے بھی باقاعدہ تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ ادھر بلوچستان میں پشتوں علاقوں کے لیے بھی الگ صوبے کا مطالبہ سامنے آتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے راہنما سابق سینیٹر تاج حیدر نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا ’تھیسیز‘ انہوں نے بذات خود پیش کیا تھا جس کو پیپلز پارٹی نے قبول کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بنیاد لسانی تفریق پر نہیں، معاشی وجوہات پر ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں شاید ہی کوئی اس بات سے اختلاف کر سکے کہ وہاں صحت، تعلیم سمیت متعدد شعبوں میں اشاریے باقی صوبے کی نسبت بہت کمزور ہیں۔ لہٰذا، پنجاب کے اندر سے تو صوبوں کی گنجائش نکلتی ہے، سندھ کے اندر سے نہیں کیونکہ شہری سندھ، کراچی ملک کا سب سے زیادہ خوشحال شہر ہے۔

خالد مسعود نے کہا کہ پاکستان کے اندر نئے صوبوں کی تشکیل کا نظام پیچیدہ ہے جو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی کی مہاجر آبادی کو صوبے کے مطالبے سے روکنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس نظام کو سہل بنایا جائے اور بھارت کی طرز پر متفرق نمائندگی رکھنے والا کمشن تشکیل دیا جائے جو صوبہ کی تقسیم اور زیادہ انتظامی یونٹ بنانے کے لیے بنیادی کلیہ ترتیب دے اور پھر اس کلیے پر زیادہ صوبے بنائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں بظاہر معلق پارلیمنٹ جنم لے سکتی ہے اور اس طرح جنوبی پنجاب صوبے کا محاذ نہ صرف الگ صوبہ بنوانے میں کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ وہ آئندہ حکومت بنانے میں بھی بادشاہ گر کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فرنٹ 40 کے قریب رکن قومی اور صوبائی اسمبلی کو متحد کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ق لیگ اور نواز لیگ دونوں جماعتیں پچھلے پنجاب اور وفاق میں بیک وقت حکومت ہونے کے باوجود صوبے کے لیے عملی اقدام میں ناکام رہی ہیں۔ لیکن، اگر تحریک انصاف کی حکومت بن گئی تو عمران خان سے توقع ہے کہ وہ ’سٹیٹسکو‘ کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG